کوہِ نور ہیرا، جو برطانوی تاج کا حصہ ہے، مرد مالکان کے لیے بدقسمتی لاتا ہے؛ اس کی تاریخ میں قتل و غارت اور دھوکہ شامل ہیں۔
لندن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) کوہِ نور ہیرا، جو برطانوی تاج کا حصہ ہے، دنیا کے سب سے قیمتی جواہرات میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ یہ ہیرا اپنی شفافیت اور چمک کے لیے مشہور ہے، لیکن اس کی تاریخ بدقسمتی اور تباہی سے بھری ہوئی ہے۔
تاریخی دستاویزات کے مطابق، کوہِ نور ہیرا 13ویں صدی میں تلنگانہ کے کولور کان میں دریافت ہوا۔ اس کی شفافیت اور روشنی جذب کرنے کی صلاحیت نے اسے طاقت اور حسد کی علامت بنا دیا۔
ایک قدیم عقیدہ ہے کہ کوہِ نور ہیرے کی ملکیت مردوں کے لیے بدقسمتی لاتی ہے۔ علاؤالدین خلجی نے اسے حاصل کیا، لیکن اس کی زندگی میں بدقسمتی کا آغاز ہوا۔
مغل بادشاہ شاہ جہاں نے کوہِ نور کو اپنے تختِ طاؤس پر سجایا، لیکن اپنے بیٹے کے ہاتھوں دھوکہ کھایا اور قید میں زندگی کا اختتام کیا۔
ایرانی بادشاہ نادر شاہ نے دہلی پر قبضے کے بعد کوہِ نور حاصل کیا، لیکن چند سال بعد وہ خود قتل کر دیے گئے۔ افغان اور سکھ حکمرانوں کی بھی یہی بدقسمتی رہی۔
1849 میں، یہ ہیرا سکھ مہاراجہ دلیپ سنگھ کے ہاتھ سے برطانیہ منتقل ہوا، جہاں اسے صرف خواتین شاہی افراد نے استعمال کیا۔ آج بھی یہ ہیرا جوئل ہاؤس میں نمائش کے لیے رکھا ہوا ہے۔














