پی آئی اے کی نجکاری سے حکومت کو 55 ارب کی قدر حاصل ہوئی، لیکن 650 ارب کا قرض برقرار رہا۔یعنی 600 ارب کا نقصان ہوا
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کا طویل عرصے سے التوا کا شکار معاملہ بالآخر برسوں کے خسارے اور ناکام اصلاحاتی کوششوں کے بعد نجکاری کے مرحلے سے گزر چکا ہے، تاہم اصل سوال اب بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا یہ سودا حکومت اور عوام کے لیے واقعی سودمند ثابت ہوا؟ اس کا جواب جاننے کے لیے نجکاری کے مالی پہلوؤں کو واضح طور پر سمجھنا ضروری ہے،یعنی کیا فروخت ہوا، حکومت کو فوری طور پر کیا حاصل ہوااور کون سا مالی بوجھ بدستور ریاست کے کھاتے میں موجود رہا۔
حکومت کو کیا حاصل ہوا؟
پی آئی اے کو مکمل طور پر نجی شعبے کے حوالے نہیں کیا گیا۔ نجکاری سے قبل حکومت نے قومی ایئرلائن کو دو الگ اداروں میں تقسیم کیا۔ ایک جانب ایک ہولڈنگ کمپنی قائم کی گئی، جس میں پی آئی اے کے پرانے قرضے اور مالی ذمہ داریاں منتقل کر دی گئیں، جن کا حجم تقریباً 650 ارب روپے ہے۔ دوسری جانب آپریٹنگ ایئرلائن رہی، جس کے پاس طیارے، بین الاقوامی و ملکی روٹس، عملہ اور روزمرہ کا کاروبار موجود ہے۔ حکومت نے اسی آپریٹنگ ایئرلائن کے حصص نجی سرمایہ کاروں کو فروخت کیے، جبکہ ہولڈنگ کمپنی بدستور سرکاری تحویل میں رہی۔
سال 2024 کے مالی آڈٹ اس فیصلے کی اصل وجہ کھل کر سامنے لاتے ہیں۔ ہولڈنگ کمپنی کا قیام اس لیے عمل میں لایا گیا تاکہ آپریٹنگ ایئرلائن کو پرانے قرضوں کے بوجھ سے نکال کر کم از کم اتنی مالی گنجائش دی جا سکے کہ وہ خسارے سے نکل کر منافع کی جانب قدم بڑھا سکے۔ یہ اقدام محض کاغذی بہتری نہیں تھا بلکہ نجکاری کو قابلِ عمل بنانے کے لیے ایک ناگزیر شرط تھا۔
ماہرین کے مطابق، اگر پی آئی اے کو اسی پرانی ساخت کے ساتھ نجی شعبے کے حوالے کیا جاتا تو نئی انتظامیہ کے لیے بہتری لانا تقریباً ناممکن ہوتا۔ قرضوں کے بھاری بوجھ کی وجہ سے کسی بھی اضافی آمدن کا بڑا حصہ پرانے واجبات کی نذر ہو جاتا، جس کے نتیجے میں سرمایہ کاری رک جاتی اور ادارہ مزید کمزور ہوتا۔ قرضوں کو الگ کر کے حکومت نے نہ صرف خریدار کے لیے حالات بہتر بنائے بلکہ اس امکان کو بھی بڑھایا کہ اصلاحات واقعی نتائج دے سکیں۔
معاہدے کے تحت حکومت نے آپریٹنگ ایئرلائن کے 75 فیصد حصص فروخت کیے۔ اس لین دین کے نتیجے میں حکومت کو تقریباً 10 ارب روپے نقد وصول ہوئےجبکہ تقریباً 125 ارب روپے ایئرلائن میں نئے سرمایہ کے طور پر ڈالے جائیں گے تاکہ ادارے کی مالی بنیاد کو دوبارہ مستحکم کیا جا سکے۔ اس حساب سے حکومت کے پاس موجود باقی 25 فیصد حصص کی مالیت لگ بھگ 45 ارب روپے بنتی ہے۔
یوں مجموعی طور پر اس نجکاری کے ذریعے حکومت کو فوری طور پر تقریباً 55 ارب روپے کی قدر حاصل ہوئی، جو نقد رقم اور حصص دونوں پر مشتمل ہے۔
حکومت کے ذمے کیا باقی رہا؟
نجکاری کو بعض حلقے ایسے پیش کر رہے ہیں جیسے اس فیصلے سے پی آئی اے کا مالی زخم بھر گیا ہو، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکومت کے پاس اب بھی وہ ہولڈنگ کمپنی موجود ہے جس پر تقریباً 650 ارب روپے کے پرانے قرض اور واجبات ہیں۔
سادہ الفاظ میں حکومت نے اس سودے سے تقریباً 55 ارب روپے کی قدر تو حاصل کی، مگر اس کے مقابلے میں 650 ارب روپے کا بوجھ بھی اپنے پاس رکھا ہے۔ حساب لگایا جائے تو یہ سودا حکومت پاکستان کو تقریباً منفی 600 ارب روپے میں پڑا ہے۔
یہ محض ایک عدد نہیں۔ اگر ان قرضوں پر اوسطاً 10 فیصد سالانہ لاگت بھی تصور کی جائے تو حکومت کو ہر سال تقریباً 60 ارب روپے صرف سود کی ادائیگی میں خرچ کرنا ہوں گے۔ یعنی پی آئی اے کی ماضی کی بدانتظامی کا بوجھ نجکاری کے بعد بھی قومی خزانے پر برقرار رہے گا۔
آنے والے دنوں کا منظرنامہ
اگرچہ یہ اعداد و شمار بظاہر مایوس کن دکھائی دیتے ہیں، مگر ماہرین کا خیال ہے کہ نجکاری کو محض خسارے کے حساب سے نہیں پرکھنا چاہیے۔ یہ فیصلہ اس لحاظ سے درست سمت میں قدم ہے کہ اس سے آپریٹنگ ایئرلائن کو قرضوں کے جال سے نکال کر نئی انتظامیہ کے سپرد کیا گیا، جس کے پاس بہتر کارکردگی دکھانے کی عملی وجہ موجود ہے۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ حکومت پر موجود تقریباً 600 ارب روپے کے بوجھ کا کیا بنے گا؟ ماہرین کے مطابق، ماضی کی غلطیوں کو بنیاد بنا کر آج کے درست فیصلوں سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔ پی آئی اے کو پرانے قرضوں سے آزاد کر کے نسبتاً معمول کے کاروباری ماحول میں کام کرنے دینا ایک درست حکمتِ عملی تھی، چاہے اس سے پرانا حساب فوری طور پر ختم نہ ہوا ہو۔
ایک اور پہلو یہ ہے کہ ریاست مجموعی معیشت میں بالواسطہ طور پر شریک ہوتی ہے۔ اگر نجکاری کے بعد ہوا بازی کا شعبہ مستحکم ہوتا ہے، مسافروں کی تعداد بڑھتی ہے اور کاروباری سرگرمیاں فروغ پاتی ہیں تو اس کے اثرات ٹیکس آمدن، روزگار اور معاشی سرگرمیوں کی صورت میں حکومت تک پہنچ سکتے ہیں۔ بہترین صورت یہی ہو سکتی ہے کہ ایک مضبوط ہوا بازی کا شعبہ وقت کے ساتھ اس بوجھ کو کم کرنے میں مدد دے۔
اصل تشویش کیا ہے؟
پاکستان میں نجکاری کوئی نیا تجربہ نہیں۔ بینکاری کے شعبے کی مثال سامنے ہے، جہاں نجکاری کے باوجود مجموعی معاشی رفتار وقت کے ساتھ سست رہی۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ صرف ملکیت کی تبدیلی مسائل کا مکمل حل نہیں۔ اگر سرمایہ کاری، مسابقت اور پیداوار کو فروغ دینے والا مجموعی ماحول موجود نہ ہو تو نجکاری محض ایک لین دین بن کر رہ جاتی ہے، حقیقی تبدیلی نہیں۔
پی آئی اے کے معاملے میں اختیار کی گئی حکمتِ عملی درست منطق پر مبنی تھی۔ پہلے پرانے قرض الگ کیے گئے، پھر کاروبار نجی شعبے کے حوالے کیا گیا۔ تاہم سوال یہ ہے کہ یہی اصول توانائی جیسے کہیں زیادہ اہم شعبے میں کیوں لاگو نہیں کیا گیا، جہاں بدانتظامی کی قیمت عوام اور صنعتیں مہنگی بجلی کی صورت میں ادا کر رہی ہیں۔
پی آئی اے کے تقریباً 600 ارب روپے کے پرانے قرض درحقیقت دہائیوں کی کمزور حکمرانی اور ناکام ادارہ جاتی نظام کی علامت ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ نجکاری ہوئی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا وہ نظام بدلے گا جس نے یہ بوجھ پیدا کیا؟
اسی سوال کا جواب مستقبل کا رخ متعین کرے گا۔
تحریر: عاطف میاں















