حکومت کا سرکاری بجلی کی خریداری سے دستبرداری کا فیصلہ

حکومت نے بجلی کی خرید و فروخت کو مسابقتی بنیادوں پر مرحلہ وار کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت 800 میگاواٹ بجلی کی نیلامی کی جائے گی۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
حکومت کا سرکاری بجلی کی خریداری سے دستبرداری کا فیصلہ

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) حکومت نے بجلی کی خرید و فروخت کو مسابقتی بنیادوں پر مرحلہ وار کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت 800 میگاواٹ بجلی کی نیلامی کی جائے گی۔ کابینہ کمیٹی برائے توانائی نے بدھ کو وزیر اعظم شہباز شریف کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں اس نیلامی کے لئے جامع رہنما اصولوں کی منظوری دی۔

اس نیلامی کے تحت بڑی کمپنیاں بجلی کی پیداوار کنندگان سے براہ راست بجلی خرید سکیں گی، تاہم انہیں قومی گرڈ کے استعمال کے لئے ‘وہیلنگ’ فیس ادا کرنا ہوگی۔ اس نئے نظام کے تحت حکومت بجلی خریداری کی براہ راست ذمہ داری سے دستبردار ہو جائے گی۔

کمیٹی نے 18 رکنی سٹیئرنگ کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جو توانائی کے مختلف شعبوں کو مربوط کرنے کے لئے حکمت عملی وضع کرے گی۔ یہ کمیٹی وفاقی اور صوبائی بیوروکریٹس پر مشتمل ہوگی اور اس کا مقصد ملک میں توانائی کی منصوبہ بندی کو بہتر بنانا ہے۔

نیلامی کے تحت 800 میگاواٹ بجلی کے یونٹ کو پانچ سال کے لئے فروخت کیا جائے گا، جس کے بعد اس کے حجم میں اضافے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) وہیلنگ اور گرڈ چارجز کا تعین کرے گی۔

دیگر متعلقہ خبریں