شفیع اللہ جان کا سخت ردعمل،‘ہمیں حکومت خیرات میں نہیں ملی، ہمیں عوام نے مینڈیٹ دیا ہے۔ لوگ سڑکوں پرآ گئے تو صورتحال ان سے سنبھالی نہیں جائے گی۔‘
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) : ’اگر کسی کو یہ گورنر راج لگانے کا شوق ہے تو یہ ایڈونچر ان کے لیے ’مس ایڈونچر‘ ثابت ہوگا۔‘ 92 نیوز کے پروگرام ’’مقابل‘‘ میں خیبرپختونخوا حکومت کے نمائندے شفیع اللہ جان نے گورنر راج سے متعلق سوال پر دو ٹوک الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہمیں حکومت خیرات میں نہیں ملی، ہمیں عوام نے مینڈیٹ دیا ہے۔ اگر انہوں نے ایسی کوئی کوشش کی تو ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ ہم گورنر ہاؤس کا محاصرہ کریں گے، ہم گورنر کا محاصرہ کریں گے۔ لوگ سڑکوں پر ہوں گے اور یہ صورتحال ان سے سنبھالی نہیں جائے گی۔‘
ربیعہ حسن کی میزبانی میں پروگرام ’’مقابل‘‘ میں عامر متین نے پی آئی اے کی نجکاری، معاشی اعدادوشمار، پنجاب کے پراپرٹی آرڈیننس پر عدالتی تنازع اور پولیس مقابلوں پر بات کی۔ پروگرام میں شفیع اللہ جان کا مؤقف، احسن بھون کا کلپ اورنمائندہ خصوصی 92 نیوز ، ریاض الحق بھی شامل گفتگو تھے۔
تحریک انصاف مذاکرات کرے گی یا احتجاج؟
سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے بتایا گیا کہ علیمہ خان کے حالیہ بیان کے بعد یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ عمران خان روایتی مذاکرات کے بجائے اپنے نامزد کردہ نمائندوں کے ذریعے ہی بات کریں گے۔ اسی تناظر میں شفیع اللہ جان نے وفاق کی جانب سے گورنر راج کی بات کو سختی سے مسترد کیا اور اپنی وارننگ دہرائی۔
اس موقع پر عامر متین نے پی ٹی آئی کی اسٹریٹ موومنٹ سے متعلق حکمت عملی پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ’ہم کافی ٹائم سے دیکھ رہے ہیں کہ پی ٹی آئی اس طریقے سے (اسٹریٹ موومنٹ) نہیں کر پائی ہے۔ تو یہ اسٹریٹ موومنٹ کس نئی اسٹریٹجی سے ہوگی کہ آپ کو لگ رہا ہے کہ اس کے نتائج کچھ مختلف ہوں گے؟ کیونکہ پچھلے آپٹکس (Optics) کچھ خاص اچھے نہیں رہے۔‘
شفیع اللہ جان نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اسٹریٹ موومنٹ کی ذمہ داری براہِ راست سہیل آفریدی کو سونپی ہے۔ شفیع اللہ جان کے مطابق، ’اسٹریٹ موومنٹ کی بات ہوئی تو اسٹریٹ موومنٹ کی ذمہ داری سہیل آفریدی صاحب کو دی گئی ہے۔۔۔ عمران خان صاحب نے ڈائریکٹلی سہیل آفریدی صاحب کو یہ میسج دیا ہے کہ وہ تیاری کریں اور ہم تیاری بھی کر رہے ہیں۔‘
شفیع اللہ جان نے سہیل آفریدی کے حوالے سے بتایا کہ ’سہیل آفریدی صاحب گراس روٹ لیول سے آئے ہوئے ہیں، آئی ایس ایف سے، یوتھ ونگ سے یہاں تک پہنچے ہیں اور وہ اس (احتجاج) کے ایکسپرٹ ہیں۔
شفیع اللہ جان نے پارٹی میں اتحاد سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ’سہیل آفریدی صاحب کی شکل میں لوگ عمران خان کو دیکھ رہے ہیں۔ پوری تحریک انصاف متحد ہو گئی ہے۔ واحد سہیل آفریدی صاحب ہیں جس پر ساری تحریک انصاف متفق ہے۔‘
پی آئی اے نجکاری سے جڑے خدشات
عامر متین نے پی آئی اے کی مالی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ‘یہ بات درست ہے کہ پی آئی اے معیشت کا خون نچوڑ رہی تھی اور گزشتہ 20 سالوں میں 500 ارب روپے کا نقصان کر چکی تھی، لیکن جس طریقے سے اسے بیچا جا رہا ہے، وہ ’’نجکاری‘‘ سے زیادہ ’’جان چھڑانے‘‘ کا عمل لگتا ہے۔‘
جہاں ایک طرف نجکاری کے عمل میں شفافیت اور خریدار کی اہلیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں، وہیں نمائندہ خصوصی 92 نیوز ریاض الحق نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری 2016 میں مکمل ہونے کے قریب تھی، تاہم ان کے مطابق اس وقت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی مداخلت سے معاملہ رک گیا۔
ریاض الحق نے کہا:،’ اسحاق ڈار اگر 2016 میں رکاوٹ نہ ڈالتے تو سب نجکاری کے لیے تیار تھے۔ اس تاخیرکا نقصان یہ ہوا کہ 2016 میں جو چیز ہم کر سکتے تھے، اس کی وجہ سے ہمیں 500 ارب سے زیادہ کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ اب سب سے بڑا ٹیسٹ یہ ہوگا کہ یہ کنسورشیم ڈیلیور کرے کیونکہ ان بڑی کمپنیوں کی اپنی ساکھ بھی داؤ پر لگی ہے۔‘
عامر متین نے کہا کہ ایئر بلیو بھی بولی کے عمل میں ممکنہ امیدوار تھی، تاہم ان کے مطابق بولی سے ایک دن پہلے عدالتی فیصلے کے ذریعے ایئر بلیو کے کنسورشیم پر 5 ارب 45 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا۔عامر متین نے اس ٹائمنگ پر کہا: ‘یہ جو ٹائمنگ ہے، یہ بہت کچھ کہتی ہے… یہ مقدمہ 15 سال سے چل رہا تھا، لیکن فیصلہ عین ایک دن پہلے آتا ہے۔ جب ایسا ہو تو پھر گھنٹیاں نہیں، ٹلیاں کھڑکتی ہیں۔’
عامر متین نے خریدار کے تجربے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا: ‘ہوا بازی (Aviation) ایک انتہائی تکنیکی فیلڈ ہے… یہاں رئیل اسٹیٹ اور ہاؤسنگ سوسائٹیاں جہاز اڑانے کی دعویدار ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ڈاکٹر کو پل بنانے کا ٹھیکہ دے دیا جائے۔’
معیشت سے متعلق گفتگو میں عامر متین نے اسٹیٹسٹیکل بیورو کے تازہ اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ 5 ماہ میں تجارتی خسارے میں 33 فیصد اضافہ ہوا، ایکسپورٹس میں 15 فیصد کمی آئی جبکہ امپورٹس میں 14 فیصد اضافہ ہوا۔
عامر متین نے حفیظ پاشا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غربت اور بے روزگاری کم کرنے کے لیے کم از کم 6 فیصد شرح نمو درکار ہے، جبکہ ان کے مطابق ‘موجودہ حالات اور آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت یہ شرح 2.5 سے 3 فیصد سے اوپر جاتی دکھائی نہیں دیتی۔’
پراپرٹی آرڈیننس پر عدلیہ ، پنجاب حکومت محاذ آرائی
پنجاب حکومت کے ‘پراپرٹی ٹرانسفر اینڈ رجسٹریشن’ سے متعلق آرڈیننس پر لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے اسے معطل کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ انتظامیہ کو عدالتی اختیارات دینے سے ‘قبضہ مافیا’ کو فائدہ ہو سکتا ہے۔
اس معاملے پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون کے وڈیو انٹرویو میں کہا گیا ہے کہ’حکومت پنجاب کا رویہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ، غیر سنجیدہ اور بچگانہ ہے۔‘
احسن بھون نے مزید کہا’یہ قانون بااثر افراد اور قبضہ مافیا کی خواہشات پوری کرنے کے لیے لایا گیا تھا… میں وزیراعلیٰ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اپنی اسٹیٹمنٹ واپس لیں۔‘
پنجاب میں 500 مقابلے، 670 سے زائد ماورائے قانون ہلاکتیں
پروگرام میں عامر متین نے ہیومن رائٹس کمیشن کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں ایک سال کے دوران 500 پولیس مقابلے ہوئے اور 670 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
عامر متین نے ایک خاتون کی جانب سےآئی جی پنجاب اور سی ٹی ڈی کے سربراہ کے خلاف دی گئی درخواست کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ’لاہور کی ایک خاتون ہیں جن کے تین بیٹے، ایک داماد اور ایک بھائی سی ٹی ڈی (CTD) اور پولیس کے مبینہ جعلی مقابلوں میں مارے جا چکے ہیں… پولیس اب بھی اسے دھمکیاں دے رہی ہے کہ وہ مقدمات واپس لے ورنہ مزید سنگین نتائج ہوں گے۔‘
ریاض الحق کے حوالے سے پروگرام میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ سی ٹی ڈی نے اپنا سوشل میڈیا سیل بنایا ہوا تھا جہاں مقابلوں کی ویڈیوز اپ لوڈ کی جاتی تھیں، اور تنقید بڑھنے کے بعد یہ سلسلہ روکا گیا۔













