پاکستان میں آئی پی پیز کے واجبات 1.2 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے، 500 ارب روپے چینی کمپنیوں کے ذمے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان میں انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے واجبات 1.2 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے ہیں، جن میں سے 500 ارب روپے چینی بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے ذمے ہیں۔ یہ انکشاف نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے زیر اہتمام ایک عوامی سماعت کے دوران کیا گیا۔
نیپرا کے چیئرمین وسیم مختار کی سربراہی میں منعقدہ سماعت میں سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی-گارینٹی (سی پی پی اے-جی) کی جانب سے مالی سال 2025-26 کے لیے مارکیٹ آپریٹر فیس کی تعیین کے لیے دائر درخواست پر غور کیا گیا۔
سی پی پی اے-جی نے مالی سال 2026 کے لیے 2.887 ارب روپے کے ریونیو کی ضرورت ظاہر کی ہے، جبکہ گزشتہ سال کی ایڈجسٹمنٹس کو شامل کرنے پر یہ ضرورت 4.664 ارب روپے تک بڑھ جاتی ہے۔
حکام نے ریگولیٹر کو بتایا کہ سی پی پی اے-جی کے عمومی انتظامی اخراجات آئندہ سال کے لیے 2.225 ارب روپے تک متوقع ہیں، جو مالی سال 2025 کے مقابلے میں 10.75 فیصد کا اضافہ ہے۔
تنخواہوں اور مراعات میں 17 فیصد اضافے کی توقع ہے، جو 2.175 ارب روپے تک پہنچ جائیں گی۔ تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں 1.627 ارب روپے کی تجویز دی گئی ہے، جس میں 3 فیصد اضافہ متوقع ہے، جو بنیادی طور پر مہنگائی سے متعلق ایڈجسٹمنٹس کی وجہ سے ہے۔
یہ اضافہ اس کے باوجود ہے کہ گزشتہ سال 20 ملازمین کو انڈیپینڈنٹ سسٹم اور مارکیٹ آپریشن ادارے میں منتقل کیا گیا اور 26 ملازمین نے استعفیٰ دیا۔
انتظامی اخراجات 322 ملین روپے تک پہنچنے کی توقع ہے، جو پچھلے سال سے تقریباً 7 فیصد زیادہ ہیں۔ نیپرا نے درخواست کا جائزہ لینے کے بعد سماعت مکمل کر لی ہے اور اس معاملے پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔















