پی ٹی اے نے رواں سال 15 لاکھ سے زائد URL بلاک کیے، جن میں 6,042 توہین اور جعلسازی سے متعلق تھے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے چیئرمین میجر جنرل حفیظ الرحمن (ریٹائرڈ) نے بتایا ہے کہ رواں سال کے دوران 15 لاکھ سے زائد URL بلاک کیے گئے، جن میں 6,042 توہین اور جعلسازی سے متعلق اور 13,780 غیر اخلاقی مواد پر مبنی تھے۔
یہ بات انہوں نے اسپیشل کمیٹی برائے جینڈر مین اسٹریمینگ کے اجلاس میں کہی، جس کی صدارت رکنِ قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کی۔ پی ٹی اے چیئرمین نے مزید بتایا کہ 5,000 غیر مجاز سمز کی نشاندہی اور بلاکنگ کی گئی۔ کمیٹی نے عالمی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ساتھ بہتر تعاون اور مضبوط پالیسیوں کی ضرورت پر زور دیا تاکہ پلیٹ فارم کی جوابدہی یقینی بنائی جا سکے۔
نفیسہ شاہ نے حالیہ عدالتی تفاسیر کا سنجیدہ نوٹس لیا، جن کے تحت زنا بالجبر کی سزاؤں کو زنا کے جرم میں تبدیل کر دیا گیا، اور ان میں الگ شکایات یا الزامات کی عدم موجودگی پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تفاسیر پارلیمان کی جانب سے بنائے گئے تحفظات کو کمزور کر سکتی ہیں، خصوصاً فوجداری قانون (ترمیمی) ایکٹ 2006 کے ذریعے۔
کمیٹی نے تشویش ظاہر کی کہ ایسی تفاسیر جنسی تشدد کے متاثرین کو بدنامی، قانونی مشکلات، اور ممکنہ فوجداری ذمہ داری کے خطرے میں ڈالتی ہیں، جس سے رپورٹنگ اور خواتین کے لیے انصاف تک رسائی متاثر ہوتی ہے۔ چنانچہ کمیٹی نے حکومت سے درخواست کی کہ عدالتی نظرثانی کی جائے تاکہ آئین اور قانون کی روح خصوصاً فوجداری قانون (ترمیمی) ایکٹ 2006 کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
کمیٹی نے “پاکستان میں خواتین کے خلاف ڈیجیٹل تشدد: ڈیجیٹل دور میں حقوق کی حفاظت” کے موضوع پر تاریخی پارلیمانی سماعت بھی کی۔ چیئرپرسن ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ ڈیجیٹل تشدد جنس کی بنیاد پر تشدد کا ایک ابھرتا ہوا اور خطرناک پہلو ہے۔ انہوں نے خواتین کے خلاف ڈیجیٹل بدسلوکی کی نوعیت اور حد کو جانچنے، قانون، پالیسی، نفاذ، اور متاثرین کی معاونت کے خلا کو پہچاننے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔















