خیبر پختونخوا حکومت نے این ایف سی میں ضم شدہ اضلاع کے لیے الگ وسائل کی تقسیم کا مطالبہ کیا ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کی ذیلی کمیٹی نے سابق فاٹا کے ضم شدہ اضلاع کے لیے وفاقی تقسیم کے حصے پر سفارشات کی تشکیل کا آغاز کیا ہے۔ منگل کو خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی صدارت میں یہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبائی سیکریٹریز، وفاقی مالیاتی سیکریٹری اور این ایف سی کے ارکان نے شرکت کی۔
خیبر پختونخوا حکومت کی درخواست پر بلائی گئی اس کمیٹی کا مقصد ضم شدہ اضلاع کے مالی مسائل پر اتفاق رائے بنانا ہے۔ کمیٹی اپنی سفارشات کو جنوری 2026 کے وسط تک حتمی شکل دے گی۔
خیبر پختونخوا حکومت نے مطالبہ کیا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ میں ضم شدہ اضلاع کو آزادانہ طور پر تسلیم کیا جائے اور ان کے لیے الگ سے وسائل مختص کیے جائیں تاکہ وفاقی وسائل کی تقسیم دس سالہ ترقیاتی منصوبے کے مطابق ہو۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ضم شدہ اضلاع کی آبادی، غربت اور دیگر معاشی اشاریوں کو شامل کرکے خیبر پختونخوا کے حصے میں اضافہ ہونا چاہیے۔ صوبے نے 2019-20 سے 2025-26 تک کے دورانیے کے لیے معاوضے کا بھی مطالبہ کیا ہے، جب ضم شدہ اضلاع کا مالی حصہ مکمل طور پر این ایف سی تقسیم میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔
خیبر پختونخوا نے وفاقی تقسیم سے دس سالہ خصوصی گرانٹ کی بھی تجویز دی ہے تاکہ ضم شدہ اضلاع کے تاریخی ترقیاتی خلا کو پورا کیا جا سکے۔ یہ گرانٹ علاقے کو خیبر پختونخوا اور ملک کے دیگر حصوں کے برابر لانے کے لیے معاون ہوگی۔















