عارف حبیب کنسورشیم نے 115 ارب بولی لگا دی۔پی آئی اے کی نجکاری کے دوسرے مرحلے میں اہم بولیاں، نجکاری مکمل ہونے کی تاریخ اپریل 2025 مقرر۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) قومی ایئرلائن پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کے 75 فیصد حصص کی نجکاری کا عمل مکمل ہو گیا، تاہم 135 ارب روپے کی مجموعی بولی میں سے حکومت کو براہِ راست صرف 10 ارب 20 کروڑ روپے موصول ہوں گے، جبکہ باقی رقم مرحلہ وار پی آئی اے میں سرمایہ کاری کے طور پر استعمال کی جائے گی۔
نجکاری کمیشن کے مطابق کامیاب بولی دہندہ ابتدائی طور پر مقررہ رقم ادا کرے گا، جبکہ باقی سرمایہ کاری آئندہ 5 سال کے دوران ادارے کی بحالی اور توسیع پر خرچ کی جائے گی۔اس معاہدے کے تحت عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے کی کامیاب بولی دے کر پی آئی اے کے اکثریتی حصص حاصل کر لیے۔
نجکاری کمیشن بورڈ کے زیر اہتمام تقریب کے آخری مرحلے میں عارف حبیب کنسورشیم نے اپنی بولی 121 ارب روپے سے بڑھا کر 135 ارب روپے کی، جس کے بعد اسے کامیاب بولی دہندہ قرار دیا گیا۔ مقابلے میں لکی کنسورشیم نے آخری مرحلے میں بولی بڑھا کر 134 ارب روپے لگائی تاہم ایک ارب روپے کم ہونے کے باعث پی آئی اے کی خریداری کی اہلیت حاصل نہ کر سکا۔
بولی کے ابتدائی مرحلے میں لکی کنسورشیم نے 101 ارب 50 کروڑ روپے، ایئر بلیو کنسورشیم نے 26 ارب 50 کروڑ روپے جبکہ عارف حبیب کنسورشیم نے 115 ارب روپے کی سب سے زیادہ بولی دی تھی۔ بعد ازاں دونوں بڑے کنسورشیمز کے درمیان بولی میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا اور حتمی مرحلے میں مقابلہ 135 ارب روپے پر اختتام پذیر ہوا۔
نجکاری کمیشن حکام کے مطابق 75 فیصد حصص کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کا 92.5 فیصد پی آئی اے میں سرمایہ کاری کے لیے مختص ہوگا، جبکہ 7.5 فیصد رقم حکومت کو منتقل کی جائے گی۔ کامیاب بولی دہندہ کو باقی 25 فیصد حصص خریدنے کے لیے 90 دن کی مہلت دی جائے گی۔
واضح رہے کہ حکومت گزشتہ سال پی آئی اے کے 654 ارب روپے کے واجبات اپنے ذمے لے چکی ہے۔ نجکاری کمیشن کے مطابق نئے سرمایہ کار کو اگلے 5 سال کے دوران 80 ارب روپے کی اضافی سرمایہ کاری کرنا ہوگی، جبکہ ملازمین کی تنخواہیں اور مراعات نئے انتظام کے تحت برقرار رہیں گی۔ پنشن اور ریٹائرمنٹ کے بعد کی ذمہ داریاں بدستور ہولڈنگ کمپنی کے پاس رہیں گی۔















