پی آئی اے نجکاری، قومی ایئر لائن کے سنہرے دور کی داستان

پی آئی اے نے 1950 میں آپریشنز کا آغاز کیا اور جلد ہی دنیا کی بہترین ایئر لائنز میں شامل ہو گئی۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
پی آئی اے: قومی ایئر لائن کے سنہرے دور کی داستان

کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے 1950 میں اپنے آپریشنز کا آغاز کیا اور جلد ہی دنیا کی بہترین ایئر لائنز میں شامل ہو گئی۔ مارچ 1962 میں امریکی خاتونِ اول جیکولین کینیڈی نے پی آئی اے کے ذریعے کراچی کا سفر کیا اور پرواز کے معیار کی تعریف کی۔

پی آئی اے کے سنہری دور کا آغاز 1959 میں ہوا جب ایئر کموڈور ملک نور خان نے قیادت سنبھالی۔ اس دور میں پی آئی اے نے بین الاقوامی سطح پر پہلی بار بوئنگ 707 سے فلائٹ شروع کی، اور ایشیا کی پہلی ایئر لائن بن گئی جس نے جیٹ ایئرکرافٹ آپریٹ کیے۔

1962 میں پی آئی اے نے نیویارک کے لیے پروازیں شروع کیں، جس سے عالمی شہرت میں اضافہ ہوا۔ کیپٹن عبداللہ بیگ اور کیپٹن غیور بیگ نے لندن سے کراچی کی پرواز میں عالمی ریکارڈ قائم کیا۔

پی آئی اے نے 1960 کی دہائی میں بوئنگ 707، 1970 کی دہائی میں ڈی سی 10، اور بعد میں بوئنگ 747 اور ایئربس اے 300 جیسے جدید طیارے شامل کیے۔

پی آئی اے نے غیر ملکی ایئر لائنز کو تکنیکی معاونت فراہم کی اور چین کے لیے کمرشل پروازیں شروع کیں۔ پی آئی اے کا نیٹ ورک ٹوکیو سے نیویارک اور افریقہ سے یورپ تک پھیلا ہوا تھا۔

سنہ 2000 کی دہائی میں پی آئی اے کی انجینئرنگ مہارت کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا اور بوئنگ، ایئربس نے پی آئی اے کو آرڈرز دیے۔

پی آئی اے نے حفاظتی معیار میں بھی نمایاں کارکردگی دکھائی اور خطے کی پہلی ایئر لائن بن کر اپنی حفاظت اور آپریشنل معیار کا اعتراف کروایا۔

دیگر متعلقہ خبریں