سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لیے فلسطینی مسئلے کے منصفانہ حل کی شرط رکھی ہے۔
ریاض: (رائیٹ ناوٴ نیوز) سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس چیف شہزادہ ترکی الفیصل نے ایک انٹرویو میں واضح کیا کہ سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ تعلقات صرف اسی صورت بحال کرے گا جب اسرائیل بین الاقوامی قوانین کے مطابق فلسطینی مسئلے کا منصفانہ حل پیش کرے۔
انھوں نے کہا کہ سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرنے یا تعلقات معمول پر لانے پر غور نہیں کر رہا۔ ترکی الفیصل نے مزید کہا کہ فلسطینی مسئلے کا حل دو ریاستی فارمولے کے تحت ہی ممکن ہے۔
شہزادہ ترکی الفیصل نے 2002 کے عرب امن منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو 1967 سے پہلے کی سرحدوں کو تسلیم کرنا ہوگا۔ انھوں نے اسرائیلی عوام کو فیصلہ کرنے کی اپیل کی کہ وہ امن کا راستہ اختیار کریں۔
انھوں نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو پر سخت تنقید کی اور کہا کہ اسرائیل کی کارروائیاں اعتماد کی فضا پیدا نہیں کرتیں۔ سعودی عرب اپنی خارجہ پالیسی قومی مفادات کے تحت تشکیل دیتا ہے اور کسی بیرونی دباؤ سے متاثر نہیں ہوتا۔













