ایران کو شدید خشک سالی کا سامنا، تہران سمیت دیگر شہروں میں پانی کی قلت، بارش نہ ہونے پر دارالحکومت خالی کرنے کا خدشہ۔
تہران: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ایران کو شدید خشک سالی کا سامنا ہے اور تہران سمیت دیگر شہر پانی کی قلت سے متاثر ہو رہے ہیں۔ ایرانی صدر نے خبردار کیا ہے کہ اگر بارش نہ ہوئی تو دارالحکومت کو خالی کرانے کی نوبت آ سکتی ہے۔ تہران کے ڈیموں میں پانی کا ذخیرہ نصف رہ گیا ہے جب کہ مشہد کے ڈیموں میں پانی 3 فیصد سے بھی کم ہے۔
مشہد واٹر کمپنی کے چیف ایگزیکٹو حسین اسماعیلیان نے بتایا کہ مشہد میں پانی کا ذخیرہ خطرناک حد تک کم ہو چکا ہے۔ حکام نے عوام سے پانی کے استعمال میں 20 فیصد کمی کی اپیل کی ہے تاکہ ذخیرہ اندوزی سے بچا جا سکے۔
ایران کے دارالحکومت تہران کو پانی فراہم کرنے والے ایک ڈیم مکمل طور پر خشک ہو چکا ہے جبکہ ایک اور میں صرف 8 فیصد پانی باقی ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ پانی کا بحران سنگین ہے اور بارش نہ ہوئی تو تہران کو خالی کرنے کی نوبت آ سکتی ہے۔
ایران میں طویل خشک سالی کے باعث پانی کی قلت پیدا ہوئی ہے۔ حکومت نے نئے پانی کے منصوبے شروع کیے ہیں اور عوامی سوئمنگ پولز پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ حکام کے مطابق تہران پانچویں سال مسلسل خشک سالی کا سامنا کر رہا ہے۔
ایران کے ہمسایہ ملک عراق میں بھی دریائے دجلہ اور فرات کی سطح میں کمی آئی ہے جبکہ ماہرین نے عراق کے جنوبی علاقوں میں انسانی بحران کی نشاندہی کی ہے۔












