حکومت اور پیپلز پارٹی کے مابین 27 ویں آئینی ترمیم پر مذاکرات کامیاب، مسودہ تیار کر لیا گیا۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان 27 ویں آئینی ترمیم کا مسودہ تیار کرنے کے مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں اور مسودے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ ترمیم کے مسودے میں تبدیلیاں کی گئیں ہیں اور اسے پرنٹنگ کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ دونوں جماعتوں میں کچھ نکات پر اتفاق رائے نہ ہونے کی اطلاعات تھیں، لیکن اب یہ معاملہ حل ہوگیا ہے۔
پارلیمنٹ میں ترمیم کے لئے ضروری ووٹ حاصل کرنے کے بارے میں وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ حکومت کے پاس مطلوبہ تعداد موجود ہے اور سینیٹ میں باقاعدہ بحث ہوگی۔
نیشنل پارٹی بلوچستان نے مجوزہ ترمیم کی مخالفت کا اعلان کیا ہے، جبکہ جے یو آئی اور جماعت اسلامی نے بھی حمایت نہ کرنے کا اظہار کیا ہے۔ سینئر وکیل فیصل صدیقی نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو فل کورٹ تشکیل دینے کی درخواست کی ہے۔
حکومت کو آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے سینیٹ میں 64 اور قومی اسمبلی میں 224 ووٹ درکار ہیں، جبکہ حکومتی اتحاد کو سینیٹ میں 65 اور قومی اسمبلی میں 237 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔












