کیا پاکستانی معیشت آئی ایم ایف کے سہارے چلے گی؟ سندھ طاس معاہدہ اور بنگلہ دیش بحران پر انکشافات

پاکستان آئی ایم ایف پروگرام میں شامل، اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں بھارت پر سوالات، بنگلہ دیش میں عثمان ہادی کے قتل کے بعد احتجاج جاری۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
کیا پاکستانی معیشت آئی ایم ایف کے سہارے چلے گی؟ سندھ طاس معاہدہ اور بنگلہ دیش بحران پر انکشافات [Draft]

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے 26ویں پروگرام میں شامل ہے اور ستمبر 2027 کے بعد ایک اور پروگرام میں جانے کے خدشات زیرِ بحث ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ میں بھارت کے سندھ طاس معاہدے کی معطلی پر سوالات اٹھائے گئے ہیں جبکہ بنگلہ دیش میں طلبہ رہنما عثمان ہادی کے قتل کے بعد ملک گیر پُرتشدد احتجاج جاری ہیں۔

یہ گفتگو جیو نیوز کے پروگرام ‘آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ’ میں نشر کی گئی، جس کے میزبان شاہزیب خانزادہ تھے۔ پروگرام میں وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال، ڈھاکہ سے بنگلہ دیشی سیاسی تجزیہ کار ماہر عمران اور مختلف موضوعات پر دستیاب سرکاری و بین الاقوامی رپورٹس کا حوالہ دیا گیا۔

پاکستان کی معیشت اور آئی ایم ایف پروگرام

شاہزیب خانزادہ نےکہا کہ ‘پاکستان 2027 تک آئی ایم ایف کے 26ویں پروگرام میں ہے اور یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ اس کے بعد کیا ملک ایک بار پھر آئی ایم ایف پروگرام میں جائے گا؟’

اس معاملے میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا، ‘جب اپریل 2022 میں ہمیں پاکستان ملا تو ملک ڈیفالٹ کے دہانے پر تھا، فائر فائٹنگ کے نتیجے میں اب کسی حد تک میکرو اکنامک اسٹیبلٹی آئی ہے، مگر ہمارے اصل مسائل اسٹرکچرل گیپس ہیں۔’

احسن اقبال نے مزید کہا کہ، ‘ہم جب بھی معاشی بحالی کی طرف جاتے ہیں تو درآمدات کا دباؤ آتا ہے، کیونکہ ہم برآمدات کی صلاحیت نہیں بڑھا سکے۔ 1990 میں پاکستان کی برآمدات 5 ارب ڈالر تھیں اور ویتنام کی ڈھائی ارب، آج ویتنام 408 ارب ڈالر پر ہے اور ہم تقریباً 40 ارب ڈالر پر ہیں۔’

شاہزیب خانزادہ نے کہا کہ، ‘انڈسٹری کہہ رہی ہے کہ ٹیرف زیادہ ہیں، ٹیکس زیادہ ہیں اور سہولیات کم ہیں، ایسے میں برآمدات کیسے بڑھیں گی؟’

احسن اقبال نے جواب دیا، ‘ہم آئی ایم ایف پروگرام میں ہیں اور کنڈیشنلیٹیز ہیں، مگر ہم اصلاحات کر سکتے ہیں، اس کے لیے وسائل نہیں ۔ ریڈ ٹیپ ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی لیے ہم نے 2026 کو اصلاحات کا سال قرار دینے کی تجویز دی ہے۔’

انہوں نے مزید کہا کہ، ‘امپورٹ سبسٹی ٹیوشن کا ماڈل فیل ہو چکا ہے، اب ہمیں ایکسپورٹ لیڈ گروتھ کی طرف جانا ہوگا اور اگلے چار سال میں ایکسپورٹس میں 20 ارب ڈالر کا اضافہ کرنا ہوگا۔’

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ: بھارت اور سندھ طاس معاہدہ

پروگرام میں بتایا گیا کہ اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے منسلک خصوصی ماہرین نے بھارت کی جانب سے پہلگام حملے کے بعد پاکستان کے خلاف کارروائیوں اور سندھ طاس معاہدے کی معطلی پر ایک رپورٹ تیار کی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ، ‘ہم پہلگام حملے کی بلا مشروط مذمت کرتے ہیں، مگر اگر موصولہ معلومات درست ثابت ہوتی ہیں تو یہ اقدامات زندگی کے حق اور مناسب معیارِ زندگی کے حق کی خلاف ورزی ہو سکتے ہیں۔’

اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے مزید کہا کہ، ‘بھارت نے قابلِ اعتماد شواہد فراہم نہیں کیے کہ پہلگام حملے کے ذمہ داروں کو پاکستان نے بھیجا تھا، اور بظاہر یو این چارٹر کے آرٹیکل 2(4) کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔’

رپورٹ میں سندھ طاس معاہدے سے متعلق کہا گیا کہ، ‘یکطرفہ معطلی ویانا کنونشن کے تحت کسی جائز جوابی اقدام کے طور پر درست معلوم نہیں ہوتی اور اس سے پاکستان میں لاکھوں افراد کے انسانی حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔’

بنگلہ دیش بحران: عثمان ہادی کا قتل اور احتجاج

پروگرام میں بتایا گیا کہ بنگلہ دیش میں طلبہ تحریک کے رہنما اور ایکٹیوسٹ عثمان ہادی کے قتل کے بعد ڈھاکہ سمیت مختلف شہروں میں پُرتشدد احتجاج شروع ہو گئے۔

ڈھاکہ سے تجزیہ کار ماہر عمران نے کہا، ‘کل رات ڈیلی اسٹار اور پروتھوم آلو کے دفاتر میں توڑ پھوڑ اور آگ لگائی گئی، کمپیوٹر اور دیگر سامان جلا دیا گیا۔’

انہوں نے مزید کہا کہ، ‘مظاہرین یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ اخبارات بھارت کی نمائندگی کرتے ہیں، حالانکہ یہ الزام درست نہیں۔’

عثمان ہادی کے قتل پر بات کرتے ہوئے ماہر عمران نے کہا کہ ‘ان پر موٹر بائیک سوار حملہ آوروں نے فائرنگ کی، حملے کی نوعیت سے لگتا ہے کہ یہ ایک منظم کارروائی تھی، مگر ابھی تک واضح نہیں کہ حملہ آور کون تھے۔’

انہوں نے مزید کہا، ‘ابھی بھی جلاؤ گھیراؤ ہو رہا ہے، صورتحال نہ مکمل طور پر کنٹرول میں ہے اور نہ ہی مکمل طور پر خراب، مگرپرہجوم تشدد کی کاروائیاں جاری ہے۔’

دیگر متعلقہ خبریں