اسلام آباد: توشہ خانہ کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو 17 سال قید کی سزا سنائی گئی، اپیل دائر کرنے کا ارادہ ظاہر۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس کا تحریری فیصلہ بھی سامنے آگیا۔ سابق وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ ٹو کیس میں مجموعی طور پر 17، 17 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ اسپیشل جج سینٹرل ارجمند شاہ نے اپنے تحریری فیصلے میں دونوں کو ایک کروڑ 64 لاکھ روپے سے زائد جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ استغاثہ مقدمہ ثابت کرنے میں کامیاب رہا اور دونوں ملزمان خیانت مجرمانہ کے مرتکب پائے گئے۔ بانی پی ٹی آئی کو جرم ثابت ہونے پر دفعہ 409 کے تحت 10 سال اور انسداد رشوت ستانی ایکٹ کے تحت 7 سال قید کی سزا دی گئی جبکہ بشریٰ بی بی کو بھی 17 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
13جولائی 2024کو نیب نےتوشہ خانہ ٹو کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی اڈیالہ جیل میں گرفتاری ڈالی تھی۔ عدالت کے تحریری فیصلے میں لکھا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو جرم ثابت ہونے پر دفعہ 409 کے تحت 10 سال سزا سنائی گئی جبکہ انسداد رشوت ستانی ایکٹ کے تحت انہیں 7 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
عدالت کے فیصلے میں ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی زائد عمر اور بشریٰ بی بی کے خاتون ہونے کی وجہ سے کم سے کم سزا دی گئی، مجرموں کی عرصہ حوالات کو بھی سزا میں شامل کر لیا گیا ہے۔ جرمانے کی عدم ادائیگی پر مزید 6 ماہ قید کی سزا ہوگی۔
تحریری فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کی عمر اور بشریٰ بی بی کے خاتون ہونے کی وجہ سے کم از کم سزا دی گئی۔
فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے اور اپیل دائر کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ کیس کے دوران قانونی ٹیم کو مشکلات کا سامنا رہا اور بانی پی ٹی آئی کو جیل میں سہولیات فراہم نہیں کی گئیں۔

![توشہ خانہ کیس2 کا تحریری فیصلہ جاری [Draft]](https://rightnow.pk/wp-content/uploads/2025/12/13459_2025-12-20_07-25-36.webp)











