عمران خان اور بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ کیس میں 17 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)
توشہ خانہ ٹو کیس میں بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف الزامات اور عدالتی کارروائی کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق دونوں نے 7 سے 10 جولائی 2021 کے دوران سعودی عرب کا سرکاری دورہ کیا تھا۔
الزام ہے کہ اس دورے کے دوران تحفے میں ملنے والا قیمتی گراف جیولری سیٹ توشہ خانہ میں جمع کرانے کے بجائے اپنے پاس رکھا گیا۔ ملزمان کا مؤقف تھا کہ انہوں نے تحفے کی آدھی قیمت ادا کر کے اسے قانونی طور پر اپنے پاس رکھا۔
استغاثہ کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی نے نعمان اللہ شاہ کے ذریعے صہیب عباسی پر دباؤ ڈال کر جیولری کی کم قیمت لگوائی۔ الزام ہے کہ 7 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے تحفے کی قیمت 58 لاکھ روپے مقرر کی گئی، جو قانوناً جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ نعمان اللہ شاہ اور صہیب عباسی اس مقدمے میں گواہ ہیں۔
نیب ترامیم سے قبل یہ مقدمہ نیب قانون کے تحت چلایا گیا، جس کی انویسٹی گیشن کی منظوری 7 جنوری 2024 کو دی گئی۔ بعد ازاں 19 اگست 2024 کو نیب نے احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کیا۔ نیب ترامیم کی سپریم کورٹ سے بحالی کے بعد 9 ستمبر 2024 کو احتساب عدالت نے کیس ایف آئی اے عدالت منتقل کر دیا۔
یہ مقدمہ گزشتہ 15 ماہ سے ایف آئی اے کی عدالت میں زیر سماعت رہا، جہاں استغاثہ کی جانب سے ٹرائل کے دوران 20 گواہ پیش کیے گئے۔ خصوصی عدالت سینٹرل-I، اسلام آباد نے فیصلے میں دونوں ملزمان کو مختلف دفعات کے تحت سزا سنائی۔
عدالت کے مطابق دفعہ 409 تعزیراتِ پاکستان کے تحت 10 سال قیدِ سادہ اور دفعہ 5(2) بمعہ دفعہ 47 انسدادِ بدعنوانی ایکٹ 1947 کے تحت 7 سال قیدِ سادہ کی سزا سنائی گئی، جبکہ دونوں پر 16,405,000 روپے فی کس جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔

![عمران خان اور بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ کیس میں سزا [Draft]](https://rightnow.pk/wp-content/uploads/2025/12/13436_2025-12-20_06-23-19.webp)













