غزہ میں غذائی بحران شدید ہو سکتا ہے، اقوام متحدہ نے خبردار کیا کہ 16 لاکھ افراد سنگین حالات میں، 1 لاکھ بچے غذا سے محروم ہیں۔
غزہ: (رائیٹ ناوٴ نیوز) اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں غذائی بحران شدید ہو سکتا ہے، جہاں 16 لاکھ افراد سنگین حالات سے دوچار ہیں۔ یونیسیف کے مطابق ایک لاکھ بچے غذا کی کمی کا شکار ہیں جبکہ سردی سے بچاؤ کی عدم دستیابی سے بھی اموات کا خطرہ ہے۔
اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد غزہ کو قحط زدہ قرار نہیں دیا جا رہا، تاہم اقوام متحدہ کے اداروں نے خبردار کیا ہے کہ یہ بہتری غیر مستحکم ہے اور بڑے پیمانے پر امداد نہ ملنے کی صورت میں صورتحال دوبارہ بگڑ سکتی ہے۔
غزہ کی 77 فیصد آبادی، یعنی 16 لاکھ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، جن میں ایک لاکھ سے زائد بچے اور 37 ہزار حاملہ و دودھ پلانے والی خواتین شامل ہیں۔ شمالی غزہ، غزہ گورنریٹ، دیر البلح اور خان یونس کو ایمرجنسی سطح پر رکھا گیا ہے۔
جنگ بندی کے بعد خوراک کی ترسیل میں کچھ بہتری آئی ہے، لیکن زیادہ تر خاندان اب بھی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔ 7 لاکھ 30 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور انسانی امداد پر انحصار کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے اداروں نے فوری اور بڑے پیمانے پر امداد کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ خوراک، صحت، زراعت، روزگار اور صفائی کے شعبوں میں بحران کو کم کیا جا سکے۔

![غزہ میں غذائی بحران سنگین، بچوں کی زندگیاں خطرے میں [Draft]](https://rightnow.pk/wp-content/uploads/2025/12/13364_2025-12-19_21-10-32.webp)












