غزہ میں طبی انخلاء کے انتظار میں 1000 سے زائد مریض ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ مزید مریضوں کا انخلاء ضروری ہے۔
غزہ: (رائیٹ ناوٴ نیوز) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران غزہ سے طبی انخلاء کے انتظار میں 1000 سے زائد مریض جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس اڈہانوم گیبریئسس نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں نے جنگ زدہ غزہ سے 10,600 سے زائد مریضوں کو نکالاہے، جن میں 5,600 سے زائد بچے شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مزید کئی مریض طبی انخلاء کے منتظر ہیں تاکہ انہیں مناسب طبی سہولیات حاصل ہو سکیں۔ غزہ کی وزارت صحت کے اعدادوشمار کے مطابق، جولائی 2024 سے نومبر 2025 کے درمیان 1,092 مریض طبی انخلاء کے انتظار میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
ٹیڈروس نے مزید کہا کہ غالب امکان ہے کہ یہ تعداد کم ظاہر کی گئی ہو ۔عالمی ادارہ صحت نے دیگر ممالک کو غزہ سے مریضوں کے انخلاء کے لیے دروازے کھولنے کی اپیل کی۔
ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے مطابق 16,500 سے زائد مریضوں کو غزہ کے باہر علاج کی ضرورت ہے، جبکہ اصل تعداد اس سے تین سے چار گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔
امریکہ کی سربراہی میں جنگ بندی کے بعد 30 سے زائد ممالک نے غزہ سے مریضوں کو قبول کیا ہے، لیکن بڑی تعداد میں صرف مصر اور متحدہ عرب امارات نے ہی مریضوں کو قبول کیا ہے۔

![غزہ میں 1000 سے زائد مریضوں کی طبی انخلاء کے انتظار میں موت [Draft]](https://rightnow.pk/wp-content/uploads/2025/12/13345_2025-12-19_20-36-10.webp)












