سینیٹر علی ظفر نے 27 ویں آئینی ترمیم کی مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ آئین کے کسی بھی ستون کو ہلانے سے تباہی ہو سکتی ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر علی ظفر نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے 27 ویں آئینی ترمیم کی مخالفت کی اور خبردار کیا کہ آئین کے اہم ستون میں کسی بھی تبدیلی سے تباہی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے پارلیمانی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ اس مخالفت میں پی ٹی آئی کا ساتھ دیں۔
سینیٹر علی ظفر نے آئین کو ملک کے تمام عوام کی ملکیت قرار دیا اور کہا کہ 1973ء میں یہ آئین بنایا گیا تھا اور اس میں ترمیم کسی عمارت کی بنیاد کو ہلانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سابقہ آمریت کے دور میں بھی آئینی ترامیم میں وقت لگا اور 18 ویں ترمیم کو 9 ماہ لگے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک وفاق ہے، جہاں صوبے خود مختار ہیں اور پارلیمنٹ عوام کے ووٹ سے بنتی ہے۔ آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کی عمل درآمد کے لیے عدالتیں موجود ہیں اور عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔
علی ظفر نے کہا کہ آئینی ترامیم کے لیے اتفاق رائے ضروری ہے، بصورت دیگر قوم اس کو نہیں مانے گی۔ انہوں نے جعلی پارلیمنٹ کی جانب سے ترمیم کی مخالفت کی اور کہا کہ حکومت خود ہی آئینی عدالت کے ججز تعینات کر کے اپنے حق میں فیصلے لے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کو ایگزیکٹو کے کنٹرول میں لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور زیر التوا کیسز کے حل کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا جا رہا۔ انہوں نے ان ترامیم کو مسترد کرنے کی اپیل کی اور زیر التوا کیسز کے حل کے لیے مل کر کام کرنے کی پیشکش کی۔












