آرمی چیف کو چیف آف ڈیفنس فورسز بنانے کی تجویز، سپریم کورٹ کے اختیارات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کرنے کا منصوبہ۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ممکنہ 27 ویں آئینی ترمیم کے مسودے کے مطابق آرمی چیف کو چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ دینے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ سپریم کورٹ کے آئینی اختیارات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کرنے کا منصوبہ ہے۔
مسودے میں آئین کے آرٹیکل 42 اور 59 میں ترمیم کے ساتھ آرٹیکل 63 اے کی کلاز 5 میں لفظ ‘سپریم’ کو ‘فیڈرل کانسٹیٹیوشنل’ سے تبدیل کرنے کی تجویز ہے۔ اس کے تحت وفاقی آئینی عدالت آئین کی تشریح اور تنازعات کے فیصلے کرے گی، جبکہ سپریم کورٹ کا ازخود نوٹس کا اختیار ختم ہوگا اور وہ صرف اپیلوں کی عدالت رہے گی۔
وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس اور چاروں صوبوں کی مساوی نمائندگی ہوگی، اور اس کے فیصلے ملک کی تمام عدالتوں پر نافذ العمل ہوں گے۔ آئینی ترامیم کے ذریعے ججوں کی تقرری کا طریقہ کار بھی تبدیل ہوگا، جس میں وزیراعظم اور صدر کا کلیدی کردار ہوگا۔
فوجی ڈھانچے میں تبدیلی کے تحت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر کے آرمی چیف کو چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ دیا جائے گا، جبکہ فیلڈ مارشل سمیت دیگر اعلیٰ فوجی عہدوں کو تاحیات درجہ دیا جائے گا۔
ماہرین نے اس ترمیم کو عدلیہ اور انتظامیہ کے اختیارات میں بڑا تغیر قرار دیا ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے ان تجاویز پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔











