نجی نیوز چینل کے پروگرام ‘سوال کے ساتھ’ میں ملکی سیاست، معیشت اور افغان علماء کی قرارداد پر تفصیلی گفتگو۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)اے آر وائی نیوز کےپروگرام ‘سوال یہ ہے’ میں ملک کے سیاسی، معاشی اور علاقائی معاملات پر تفصیلی گفتگو کی گئی، جس میں تین بڑے موضوعات زیرِ بحث آئے ہیں، حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات یا ممکنہ طور پر “فیز ٹو” کی پیش رفت، معیشت سے متعلق حکومتی دعوے اور زمینی حقائق کا تقابل، اور افغانستان میں علماء کی جانب سے منظور کی گئی ایک اہم قرارداد۔ پروگرام کے پہلے حصے میں سیاسی بحران اور مذاکرات کے امکانات پر گفتگو کی گئی، دوسرے حصے میں ملکی معیشت پر تفصیلی بحث ہوئی، جبکہ آخری حصے میں افغان علماء کی قرارداد اور اس پر پاکستان کے مؤقف کا جائزہ لیا گیا۔
سیاسی منظرنامہ اور مذاکرات کا سوال
پروگرام کے آغاز میں ماریا میمن نے اس سوال کو مرکزی نکتہ بنایا کہ آیا موجودہ حالات میں حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان بات چیت ممکن ہے یا نہیں۔ اس تناظر میں ماریا میمن نے ایک حالیہ پریس کانفرنس کا حوالہ دیا جس میں محمود مولوی اور عمران اسماعیل نے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک میز پر بیٹھنے کا مشورہ دیا۔ اس پریس کانفرنس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ سیاسی جماعتوں کو اپنے باہمی اختلافات ختم کر کے ایک مشترکہ سمت اختیار کرنی چاہیے اور اس عمل میں تحریک انصاف سمیت تمام جماعتوں کو شامل ہونا چاہیے۔
پریس کانفرنس میں یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ تحریک انصاف کی موجودہ قیادت مذاکرات کے حوالے سے مزاحمت کا رویہ اپنائے ہوئے ہے، جبکہ سیاسی حل کے لیے مفاہمت کی ضرورت ہے۔ مقررین کی جانب سے اس بات پر زور دیا گیا کہ اگر سیاسی جماعتیں مزاحمت کی سیاست سے باہر نہ نکلیں تو اس کے نتائج ندامت کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔
میزبان نے اس نکتے کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ سوال اٹھایا کہ کیا سیاسی جماعتیں واقعی اس حد تک بااختیار ہیں کہ وہ مذاکرات کر سکیں۔ اس حوالے سے یہ بات بھی زیرِ بحث آئی کہ تحریک انصاف میں حتمی فیصلے عمران خان کرتے ہیں، جبکہ حکومتی اتحاد کے پاس خود کتنا مینڈیٹ اور کتنی گنجائش موجود ہے۔ میزبان نے اس پس منظر میں خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل افریدی کے ایک بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر موجودہ سیٹ اپ میں کوئی سیاسی جماعت خود کو بااختیار سمجھتی ہے تو وہ مذاکرات کے لیے آ سکتی ہے۔
حکومت کا رویہ اور “فیز ٹو” کی بحث
پروگرام میں حکومتی وزراء کے بیانات کا بھی حوالہ دیا گیا، جن میں طارق فضل چوہدری کی جانب سے “فیز ٹو” کی بات سامنے آئی۔ ماریا میمن کے مطابق حکومت کا مجموعی موڈ جارحانہ دکھائی دیتا ہے، جس میں تحریک انصاف کے اندر اور دیگر اداروں میں احتساب کی بات کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ آیا یہ حکمت عملی مذاکرات کی میز پر حکومت کو برتری دلانے کی کوشش ہے یا پھر یہ محض ایک سیاسی دباؤ کا حربہ ہے۔
میزبان نے محمد زبیر کے ایک سابقہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق حکومت کی جانب سے “فیز ٹو” کی بات محض ایک سیاسی بلف ہے اور عملی طور پر حکومت مذاکرات کی جانب پیش رفت نہیں کرے گی۔ اسی پس منظر میں پروگرام کے پہلے حصے کے مہمان عمران اسماعیل، سابق گورنر سندھ، کو گفتگو کے لیے شامل کیا گیا۔
عمران اسماعیل کا مؤقف
عمران اسماعیل نے حکومت کی جانب سے “فیز ٹو” کی اصطلاح کے استعمال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیاست کو کسی سوسائٹی یا منصوبے کے فیزز کی طرح نہیں چلایا جا سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیاسی ماحول پیدا کرنا حکومت وقت کی ذمہ داری ہوتی ہے اور اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ اسے کسی سے بات کرنے کی ضرورت نہیں تو یہ ایک غلط سوچ ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق سیاسی جماعتوں کے درمیان مکالمہ ہی مسائل کے حل کی بنیاد بن سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنماؤں کے درمیان ملاقاتیں ہو چکی ہیں، جن میں نذیر تارڑ، خواجہ سعد رفیق، رانا ثناء اللہ اور ایاز صادق شامل تھے۔ ان ملاقاتوں میں بات چیت کے آغاز پر آمادگی ظاہر کی گئی۔ عمران اسماعیل کے مطابق یہ بات چیت سنجیدہ نوعیت کی تھی اور اس میں مذاکرات کی ضرورت کو تسلیم کیا گیا۔
عمران اسماعیل نے تحریک انصاف کے اندرونی معاملات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے سینئر عناصر اس بات پر متفق ہیں کہ اب مزاحمت کی سیاست کے بجائے مفاہمت کی سیاست کی طرف جانا چاہیے۔ انہوں نے شاہ محمود قریشی اور اعجاز چوہدری سے ہونے والی ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں کا مؤقف تھا کہ مسلسل مزاحمت سے پارٹی اور کارکنوں کو نقصان ہوا ہے اور اب تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مذاکرات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ تحریک انصاف کی موجودہ قیادت سیاست کے عملی تجربے سے محروم ہے اور تمام فیصلے عمران خان کی مرضی کے مطابق کیے جا رہے ہیں۔ عمران اسماعیل کے مطابق باہر موجود قیادت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عمران خان کے سامنے حقائق رکھے، لیکن ایسا نہیں ہو رہا۔
مذاکرات، مینڈیٹ اور مقتدرہ کا سوال
پروگرام میں اس نکتے پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی کہ تحریک انصاف حکومت کو “فارم 47” کی پیداوار قرار دیتی ہے اور یہ سوال اٹھاتی ہے کہ ایسی حکومت سے بات کیوں کی جائے جس کے پاس مکمل مینڈیٹ نہیں۔ عمران اسماعیل نے اس حوالے سے کہا کہ اگرچہ یہ مؤقف اپنی جگہ موجود ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حکومت اقتدار میں ہے، اس لیے عملی سیاست میں ان سے بات چیت ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق جب سیاسی جماعتیں آپس میں بات چیت کریں گی تو اس کے بعد مقتدرہ سے بات چیت کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات کا مقصد کسی ایک فریق کو سیاسی فائدہ دینا نہیں بلکہ ایک ایسا سیاسی ماحول پیدا کرنا ہے جس میں تمام جماعتوں کو یکساں مواقع مل سکیں۔ ان کے مطابق صرف ایک میز پر بیٹھنا اور بات چیت کا آغاز کرنا بھی ایک بڑی پیش رفت ہو سکتی ہے۔
معیشت: دعوے اور حقیقت
پروگرام کے دوسرے حصے میں میزبان نے گفتگو کا رخ ملکی معیشت کی جانب موڑ دیا۔ ماریا میمن نے ڈان میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماہرین کے مطابق سرمایہ کاری کا جی ڈی پی کے مقابلے میں تناسب تیرہ فیصد سے بھی کم ہو سکتا ہے، جو ایک تشویشناک ریکارڈ ہو گا۔ رپورٹ کے مطابق ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری اس وقت کم ترین سطح پر ہے، جبکہ سیاسی عدم استحکام اور دہشت گردی کو سرمایہ کاری کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیا گیا ہے۔
ٹیکسٹائل صنعت سے وابستہ عامر عزیز کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ غیر یقینی حالات میں سرمایہ کاری ممکن نہیں رہتی اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ بڑے پاکستانی گروپس بیرون ملک سرمایہ کاری کر رہے ہیں، جس سے روزگار کے مواقع بھی ملک سے باہر منتقل ہو رہے ہیں۔
اس حصے میں وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل کو شامل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کے لیے سیکورٹی صورتحال، ٹیکس ریٹس، یوٹیلیٹی قیمتیں اور مجموعی معاشی استحکام بنیادی عوامل ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان ایک مشکل معاشی صورتحال سے نکل چکا ہے جہاں دیوالیہ پن کا خطرہ تھا، اور اب معیشت میں استحکام آیا ہے، اگرچہ سرمایہ کاری کے حوالے سے چیلنجز اب بھی موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر مقامی سرمایہ کار سرمایہ کاری کریں گے تو غیر ملکی سرمایہ کار بھی آئیں گے۔ ان کے مطابق حکومت آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مالی نظم و ضبط قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اصلاحات کا عمل جاری ہے، تاہم فوری نتائج کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
ڈاکٹر مفتاح اسماعیل کی تنقید
سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے حکومتی دعوؤں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ استحکام کی بات دو سال سے کی جا رہی ہے، لیکن عوام کے لیے اس کے ثمرات سامنے نہیں آ رہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی، گیس اور ٹیکس کی قیمتیں خطے میں سب سے زیادہ ہیں اور اس کے باعث سرمایہ کاری نہیں ہو رہی۔ ان کے مطابق کئی بڑی غیر ملکی اور مقامی کمپنیاں پاکستان چھوڑ چکی ہیں، جو سرمایہ کاری کے ماحول پر سوالیہ نشان ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کی ترجیحات عوامی ریلیف کے بجائے دیگر اقدامات پر مرکوز ہیں، جس کے باعث مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کا جی ڈی پی کے مقابلے میں تناسب تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ چکا ہے اور یہ حکومت کی پالیسیوں پر ایک “چارج شیٹ” ہے۔
افغان علماء کی قرارداد
پروگرام کے آخری حصے میں افغانستان میں ایک ہزار سے زائد علماء کی جانب سے منظور کی گئی قرارداد کا ذکر کیا گیا۔ اس قرارداد میں اس بات کا عہد کیا گیا کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو گی اور خلاف ورزی کی صورت میں اسلامی امارت کارروائی کا حق رکھتی ہے۔ قرارداد میں طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے حکم کا حوالہ بھی دیا گیا، جس میں افغان شہریوں کو بیرون ملک عسکری سرگرمیوں سے روکنے کی بات کی گئی ہے۔
دفتر خارجہ نے اس پیش رفت کو مثبت قرار دیتے ہوئے عبوری افغان حکومت سے تحریری ضمانت کا مطالبہ دہرایا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔ ماہرین کے مطابق یہ قرارداد آزاد علماء کی جانب سے سامنے آئی ہے اور اس میں پاکستان کا براہ راست نام نہیں لیا گیا، تاہم اس کا وقت اہم ہے کیونکہ یہ پاکستان کے سکیورٹی خدشات کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر میزبان نے کہا کہ سیاسی مذاکرات، معاشی چیلنجز اور علاقائی سلامتی جیسے معاملات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور ان پر بحث جاری رہے گی۔ پروگرام کا اختتام اسی نکتے پر ہوا کہ ان تمام موضوعات پر مزید گفتگو آئندہ بھی کی جاتی رہے گی۔
بشکریہ (اے آر وائی نیوز )















