وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف پروگرام میں نئی شرائط کی تردید کی، اصلاحات پہلے سے طے شدہ ایجنڈے کا حصہ ہیں۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)
وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت جاری اصلاحات پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات پہلے سے طے شدہ اصلاحاتی ایجنڈے کا تسلسل ہیں۔
اعلامیے کے مطابق آئی ایم ایف کے کنٹری پالیسی فریم ورک میں کوئی نئی شرط شامل نہیں کی گئی ہے۔ پاکستان کی مجوزہ اصلاحاتی پالیسیاں پروگرام کے آغاز پر ہی آئی ایم ایف کو دی گئی تھیں، جو ملک کے معاشی استحکام کے لیے ضروری ہیں۔
وزارت خزانہ نے بتایا کہ سرکاری ملازمین کے اثاثہ جات کی اشاعت اور سول سرونٹس ایکٹ 1973 میں ترمیم گزشتہ جائزوں میں شامل تھے۔ نیب کی کارکردگی میں بہتری اور دیگر اداروں سے تعاون بھی پہلے سے طے شدہ تھا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ صوبائی اینٹی کرپشن اداروں کے مالی معلومات تک رسائی اے ایم ایل/سی ایف ٹی اصلاحات کا حصہ ہے، جبکہ مالی سال 2025 میں ترسیلات زر میں 26 فیصد اضافہ ہوا۔
وزارت خزانہ نے کہا کہ مقامی کرنسی بانڈ مارکیٹ، شوگر سیکٹر، اور ایف بی آر میں اصلاحات حکومت کی اپنی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔















