ریم اور ایس ایس ڈی کی قیمتوں میں اضافہ، صارفین پریشان

عالمی سطح پر ریم اور ایس ایس ڈی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ، صارفین کو متبادل حل تلاش کرنے کی ضرورت۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
ریم اور ایس ایس ڈی کی قیمتوں میں اضافہ، صارفین کے لیے چیلنج

کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) عالمی سطح پر کمپیوٹر ہارڈویئر کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ریم اور ایس ایس ڈی کی قیمتوں میں 240 سے 500 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے، جس کی بنیادی وجہ نینڈ اور ڈی ریم چپس کی قلت ہے۔

مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے رجحان نے چپس کی پیداوار کو متاثر کیا ہے۔ ٹیکنالوجی کمپنیوں نے اپنی پیداوار اے آئی چپس کی جانب منتقل کر دی ہے، جس سے نینڈ اور ڈی ریم چپس کی قلت پیدا ہوئی ہے۔

سام سنگ جیسے بڑے چپس بنانے والے ادارے اپنی پیداواری صلاحیت کو اے آئی چپس کی طرف موڑ چکے ہیں، جس سے عالمی سطح پر چپس کی قلت پیدا ہو چکی ہے۔ ریم اور ایس ایس ڈی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پی سی، لیپ ٹاپ، گیمنگ کنسولز اور دیگر ڈیوائسز کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

ہارڈ ڈسک ڈرائیوز اب بھی ایک متبادل کے طور پر موجود ہیں کیونکہ ان کی قیمتیں اور دستیابی متاثر نہیں ہوئی ہیں۔ جبکہ صارفین استعمال شدہ ریم خریدنے کی کوشش کر سکتے ہیں جو ابھی بھی مناسب قیمت پر دستیاب ہو سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق، اس بحران کے خاتمے کے لیے چپس کی پیداوار میں اضافہ یا اے آئی ببل کے پھٹنے کا انتظار کرنا ہوگا۔ سام سنگ اور دیگر ادارے چپس کی پیداوار میں اضافہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن یہ عمل وقت طلب ہو سکتا ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں