جنرل فیض حمید کی سزا سے سیاسی صورتحال میں ہلچل پیدا ہوگئی۔ سیاسی جماعتوں کے بیانیے میں شدت پیدا ہوگئی ہے۔جنرل (ر) فیض حمید کو فوجی عدالت سے 14 سال قید کی سزامکافات عمل ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناؤ نیوز) 92 نیوز کے پروگرام ’’نائٹ ایڈیشن ثروت ولیم کے ساتھ‘‘ میں ملک کی حالیہ سیاسی صورتِ حال، سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو فوجی عدالت کی جانب سے سنائی گئی 14 سال قیدِ بامشقت کی سزا، اس کے سیاسی مضمرات، 9 مئی کے واقعات، ممکنہ مزید تحقیقات، پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے باہمی روابط، گورنر راج کے خدشات، اور اپوزیشن و حکومت کے جارحانہ بیانیے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
پروگرام کی میزبانی ثروت ولیم نے کی، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما قادر خان مندوخیل، پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما و سینیٹر ہمایوں مہمند، اور سینئر تجزیہ کار عامر ضیاء نے مختلف حصوں میں اپنے مؤقف پیش کیے۔
ابتدائی کلمات میں میزبان نے واضح کیا کہ جنرل فیض حمید کے خلاف فیصلے کے بعد ملکی سیاست میں ایک غیر معمولی ہلچل پیدا ہو چکی ہے۔ یہ سوال زیرِ بحث آیا کہ آیا یہ فیصلہ محض ایک فرد کی سزا ہے یا پھر اس کے اثرات قومی سیاست، سیاسی جماعتوں کے مستقبل اور ریاستی ڈھانچے تک پھیل سکتے ہیں۔ میزبان کے مطابق ایک طرف مسلم لیگ (ن) کے رہنما جارحانہ بیانات دے رہے ہیں، تو دوسری جانب پیپلز پارٹی اسے ’’مکافاتِ عمل‘‘ قرار دے رہی ہے، جبکہ تحریک انصاف اپنے لیے ممکنہ سیاسی راستے تلاش کرتی دکھائی دے رہی ہے۔
سزا کا فیصلہ اور پیپلز پارٹی کا مؤقف
قادر خان مندوخیل نے گفتگو کے آغاز میں فیصلے کو ’’مکافاتِ عمل‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی یہ مؤقف پہلے ہی اختیار کر چکی تھی کہ 2018 میں آر ٹی ایس سسٹم کے ذریعے سیاسی عمل میں مداخلت ہوئی۔ انہوں نے کہا، ’’یہ تو مکافاتِ عمل ہے۔ ہم تو پہلے ہی کہتے تھے کہ 2018 میں آر ٹی ایس سسٹم کے ذریعے ایک جماعت کو مسلط کیا گیا، اور آج اس کے نتائج سب کے سامنے ہیں۔ ‘‘
انہوں نے فیض حمید اور عمران خان کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بقول یہ اتحاد ملکی سیاست اور ریاستی اداروں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا۔ مندوخیل نے ماضی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ فیض حمید نے نہ صرف سیاسی معاملات میں کردار ادا کیا بلکہ بعض فیصلوں میں اثر و رسوخ بھی استعمال کیا۔ ان کے مطابق یہ سب کچھ 9 مئی کے واقعات تک جا پہنچا، جنہیں انہوں نے ریاست مخالف سرگرمیوں سے جوڑا۔
9 مئی، تحقیقات اور تضادات
میزبان نے اس موقع پر سوال اٹھایا کہ اگر 9 مئی کے واقعات میں مختلف عناصر شامل تھے تو پھر صرف تحریک انصاف یا عمران خان کو ہی کیوں ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ اس پر قادر خان مندوخیل نے کہا کہ ان کے نزدیک اصل ذمہ داری اُن عناصر پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے کارکنوں کو حساس مقامات کی طرف جانے پر اکسایا۔ انہوں نے کہا، ’’یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا، اس کے پیچھے منصوبہ بندی تھی، اور ویڈیوز و شواہد اس کی گواہی دیتے ہیں۔ ‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ان کے نزدیک 14 سال کی سزا کم ہے اور اصل مقدمات ابھی سامنے آنا باقی ہیں۔ ان کے بقول آئندہ تحقیقات میں مزید حقائق سامنے آ سکتے ہیں۔
مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کا تقابلی رویہ
پروگرام میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کا لہجہ کیوں زیادہ جارحانہ ہے جبکہ پیپلز پارٹی نسبتاً محتاط نظر آ رہی ہے۔ قادر خان مندوخیل نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے اپنا مؤقف بلاول بھٹو زرداری کے بیانات کے ذریعے واضح کر دیا ہے۔ انہوں نے بلاول بھٹو کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عمران خان اور فیض حمید کو ’’فرعون‘‘ قرار دیا تھا۔
قادر خان مندوخیل نے مسلم لیگ (ن) کے بعض رہنماؤں، خصوصاً خواجہ آصف کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی تاریخ میں تضادات موجود رہے ہیں اور ان پر بھی سوالات اٹھنے چاہئیں۔
پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے رابطے
میزبان نے پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے ممکنہ رابطوں پر سوال کیا، جس پر قادر خان مندوخیل نے تصدیق کی کہ ماضی میں پیپلز پارٹی نے غیر مشروط تعاون کی پیشکش کی تھی۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے کہا تھا کہ اگر آپ کے پاس اکثریت ہے تو ہم آپ کو سپورٹ کریں گے، مگر اس وقت ہمیں جواب میں الزامات ہی ملے۔ ‘‘
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے دروازے ہمیشہ مذاکرات کے لیے کھلے رہے ہیں، مگر ان کے بقول اصل مسئلہ تحریک انصاف کے اندرونی رویوں اور قیادت کے فیصلوں کا ہے۔
تحریک انصاف کا مؤقف: مالی بحران اور حکمتِ عملی
پروگرام کے دوسرے حصے میں تحریک انصاف کے سینئر رہنما سینیٹر ہمایوں مہمند نے شرکت کی۔ میزبان نے ان سے پارٹی کے مبینہ مالی بحران کے بارے میں سوال کیا۔ ہمایوں مہمند نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف نے ابتدا سے فنڈنگ کا ایک مختلف ماڈل اپنایا، جس میں اوورسیز پاکستانیوں کی شمولیت شامل تھی۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے کبھی چند بڑے ڈونرز پر انحصار نہیں کیا، بلکہ عام کارکنوں اور اوورسیز پاکستانیوں کی مدد سے پارٹی کو چلایا۔ ‘‘
انہوں نے بتایا کہ موجودہ حالات میں دباؤ اور خوف کی فضا کے باعث فنڈنگ میں مشکلات آ رہی ہیں، اسی لیے منتخب نمائندوں سے تعاون کی اپیل کی گئی ہے۔ ان کے مطابق یہ قدم پارٹی کارکنوں کی تنخواہوں اور تنظیمی اخراجات کے لیے اٹھایا گیا۔
9 مئی کا معاملہ اور الزامات
میزبان نے خواجہ آصف کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ عمران خان کو ’’ملک دشمن‘‘ قرار دینے کو تحریک انصاف کس نظر سے دیکھتی ہے۔ ہمایوں مہمند نے اس پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا، ’’یہ الزامات نئے نہیں ہیں۔ ماضی میں بھی سیاسی رہنماؤں پر ایسے لیبل لگائے گئے، مگر وقت نے ثابت کیا کہ یہ سیاسی حربے تھے۔‘‘
انہوں نے زور دیا کہ 9 مئی کے واقعات پر آزاد اور غیر جانبدار تحقیق ہونی چاہیے۔ ان کے بقول تحریک انصاف کا مطالبہ ہمیشہ یہی رہا ہے کہ ایک جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔
وعدہ معاف گواہ اور قانونی سوالات
گفتگو میں یہ نکتہ بھی زیرِ بحث آیا کہ اگر فیض حمید وعدہ معاف گواہ بنتے ہیں تو ان کی گواہی کس حد تک قابلِ قبول ہوگی۔ ہمایوں مہمند نے کہا کہ ایک مجرم کی گواہی ہمیشہ سوالات کو جنم دیتی ہے، اور اسی لیے شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔
پروگرام کے آخری حصے میں سینئر تجزیہ کار عامر ضیاء نے گفتگو میں حصہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال کو ’’چائے کی پیالی کا طوفان‘‘ نہیں کہا جا سکتا بلکہ یہ ایک بڑا سیاسی بحران ہے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ بحران صرف ایک جماعت یا ایک شخصیت کا نہیں، بلکہ پورے سیاسی نظام کی آزمائش ہے۔ ‘‘
انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں بھی بڑے سیاسی رہنما اسی نوعیت کے الزامات اور پابندیوں کا سامنا کر چکے ہیں، مگر وقت کے ساتھ وہ سیاست میں واپس آئے۔ عامر ضیاء کے مطابق اصل مسئلہ حکومت کی عوامی ساکھ اور سیاسی عمل کی شفافیت ہے۔ ان کے بقول اگر اپوزیشن کو دیوار سے لگایا گیا تو اس سے سیاسی تقسیم مزید گہری ہو جائے گی۔
پیپلز پارٹی کا محتاط رویہ اور ممکنہ مفاہمت
عامر ضیاء نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ پیپلز پارٹی کا لہجہ مسلم لیگ (ن) کے مقابلے میں نسبتاً محتاط ہے۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی شاید اس بات کو سمجھتی ہے کہ مکمل تصادم کے بجائے سیاسی راستے کھلے رکھنا ضروری ہے۔
پروگرام کے اختتام پر میزبان نے گفتگو کو سمیٹتے ہوئے کہا کہ فیض حمید کو دی گئی سزا نے پاکستانی سیاست میں نئے سوالات اور خدشات کو جنم دیا ہے۔ ایک طرف مزید تحقیقات کی بات ہو رہی ہے، تو دوسری طرف سیاسی جماعتیں اپنی حکمتِ عملی ترتیب دے رہی ہیں۔ یہ سوال بدستور قائم ہے کہ آیا آنے والے دنوں میں تصادم بڑھے گا یا کوئی مفاہمتی راستہ نکل سکے گا۔
بشکریہ 92نیوز















