جنرل فیض کی جگہ کسی اور کو سزا؟ کون بنے گا وعدہ معاف گواہ؟

کچھ معاملات علیحدہ طور پر نمٹائے جائیں گے۔ یہی اصل سوال ہے کہ وہ معاملات کب اور کیسے سامنے آئیں گے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

اسلام آباد: (رائیٹ ناؤ نیوز) دنیا نیوز کے پروگرام ’’آج کی بات سیٹھی کے ساتھ‘‘ میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو فوجی عدالت کی جانب سے 14 سال قیدِ بامشقت کی سزا، اس کے سیاسی و عسکری مضمرات، بانی پی ٹی آئی عمران خان کی آئندہ قانونی و سیاسی صورتحال، ممکنہ ’’مائنس پی ٹی آئی‘‘ فارمولے، ملاقاتوں پر پابندی، اور داخلی و خارجی پالیسی کے حساس معاملات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

پروگرام کی میزبانی سیدہ عائشہ شہناز نے کی، جبکہ سینئر صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے مختلف پہلوؤں پر اپنا مؤقف پیش کیا۔ گفتگو میں نہ صرف سزا کی ٹائمنگ اور اس کے پس منظر پر بات ہوئی بلکہ اس امر پر بھی سوال اٹھایا گیا کہ آیا یہ فیصلہ محض ایک کیس ہے یا آئندہ بڑے سیاسی اقدامات کا پیش خیمہ۔

فیصلے کی ٹائمنگ اور اس کے پس منظر پر سوالات

پروگرام کے آغاز میں میزبان نے اس امر کی نشاندہی کی کہ جنرل (ر) فیض حمید کے کورٹ مارشل اور سزا سے متعلق قیاس آرائیاں طویل عرصے سے جاری تھیں۔ میزبان کے مطابق اگست میں گرفتاری کے بعد بارہا یہ سوال اٹھتا رہا کہ سزا کب سنائی جائے گی، اور اب دسمبر میں یہ فیصلہ سامنے آنا کئی حلقوں کے لیے معنی خیز ہے۔ نجم سیٹھی نے کہا کہ سزا کی ٹائمنگ محض اتفاق نہیں بلکہ حالات کے تناظر میں منتخب کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا،  ’’یہ سب کو معلوم تھا کہ گرفتاری ہو چکی ہے، تفتیش جاری ہے، مگر سزا ایک ایسے وقت پر آنی تھی جب اس کا اثر ہو۔ اس اعلان نے فوری طور پر توجہ کو دوسرے سیاسی تنازعات سے ہٹا کر اسی فیصلے پر مرکوز کر دیا۔ ‘‘

سیٹھی کے مطابق سزا کے اعلان سے قبل حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات، ملاقاتوں پر پابندی اور قومی سلامتی سے جڑی سرگوشیوں کا ماحول موجود تھا، جس میں یہ فیصلہ ایک نئی بحث کا سبب بنا۔

سزا کی نوعیت اور آئندہ امکانات

نجم سیٹھی نے اس نکتے پر زور دیا کہ سزا سنائے جانے کے باوجود اس کے کئی پہلو ابھی کھلے ہیں۔ ان کے مطابق یہ توقع رکھنا قبل از وقت ہے کہ فیصلے کی تفصیلی وجوہات جلد منظرِ عام پر آئیں گی۔

انہوں نے کہا،  ’’میرا نہیں خیال کہ اس فیصلے کی تفصیلی ججمنٹ جلدی سامنے آئے گی۔ اپیل کے مراحل، فورمز اور ٹائمنگ سب ابھی غیر واضح ہیں۔ جب تک تفصیل نہیں آئے گی، بحث قیاس آرائیوں تک محدود رہے گی۔ ‘‘

سیٹھی نے یہ بھی کہا کہ ماضی کی مثالوں میں بعض سزائیں بعد کے مراحل میں نرم بھی پڑی ہیں، تاہم اس کیس میں اصل سوال آئندہ پیش رفت سے جڑا ہوا ہے۔

عمران خان، ملاقاتوں پر پابندی اور سیاسی کشیدگی

گفتگو کا ایک بڑا حصہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صورتحال پر مرکوز رہا۔ میزبان نے سوال اٹھایا کہ ملاقاتوں پر پابندی کے بعد حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے۔ نجم سیٹھی نے اس تناظر میں حالیہ ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان ملاقاتوں کے بعد آنے والے بیانات نے فضا کو مزید کشیدہ کیا۔

انہوں نے بتایا،  ’’حالیہ ملاقاتوں کے بعد جو پیغامات باہر آئے، انہوں نے کئی حلقوں میں اشتعال پیدا کیا۔ اس کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ کچھ عرصے کے لیے ملاقاتوں پر پابندی رہے گی۔ ‘‘

سیٹھی کے مطابق انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اگر جیل کو سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنایا گیا تو مزید سخت فیصلے بھی ہو سکتے ہیں۔

پریس ریلیز، الزامات اور نامکمل تصویر

پروگرام میں اس امر پر بھی بحث ہوئی کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں بعض معاملات کو الگ رکھا گیا ہے۔ نجم سیٹھی نے کہا کہ سیاسی مداخلت اور احتجاجی سرگرمیوں سے متعلق نکات کو مستقبل کے لیے محفوظ رکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہا،  ’’پریس ریلیز میں واضح کیا گیا ہے کہ کچھ معاملات علیحدہ طور پر نمٹائے جائیں گے۔ یہی اصل سوال ہے کہ وہ معاملات کب اور کیسے سامنے آئیں گے۔ ‘‘

سیٹھی کے مطابق اسی نکتے نے یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا یہ سزا کسی بڑے قانونی یا سیاسی عمل کا ابتدائی مرحلہ ہے۔

وعدہ معاف گواہ اور ممکنہ پیش رفت

نجم سیٹھی نے ایک امکان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر آئندہ مراحل میں کسی بڑے ٹرائل کی نوبت آئی تو وعدہ معاف گواہ کا تصور بھی زیرِ بحث آ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا،  ’’یہ کیس اس طرح اوپن اینڈڈ رکھا گیا ہے کہ آئندہ اگر کسی اور معاملے میں تعاون ہوتا ہے تو صورتِ حال بدل سکتی ہے۔ ماضی میں ایسی مثالیں موجود ہیں۔ ‘‘

جنرل باجوہ، ججز اور دیگر کردار

پروگرام میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ آیا سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ یا دیگر شخصیات کو اس عمل میں شامل کیا جائے گا۔ نجم سیٹھی نے واضح انداز میں کہا کہ ان کے خیال میں جنرل باجوہ کے خلاف کسی کارروائی کا امکان نہیں۔

انہوں نے کہا،  ’’کسی سابق آرمی چیف کا ٹرائل ہونا ایک غیر معمولی بات ہوگی، اور میں نہیں سمجھتا کہ ایسا ہوگا۔ زیادہ سے زیادہ انہیں بطور گواہ بلایا جا سکتا ہے۔ ‘‘

اسی طرح ججز، صحافیوں اور دیگر شخصیات کے کردار پر بھی سوالات اٹھے، تاہم سیٹھی کے مطابق یہ سب کچھ عمران خان کے سیاسی رویے اور آئندہ فیصلوں سے مشروط ہے۔

پی ٹی آئی کی حکمت عملی اور اندرونی تذبذب

نجم سیٹھی نے پی ٹی آئی کی موجودہ پوزیشن کو غیر یقینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جماعت کے اندر واضح سمت کا فقدان نظر آ رہا ہے۔

انہوں نے کہا،  ’’ایک مرحلے پر حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی منظوری سے بات چیت کی سنجیدہ کوشش ہوئی، مگر اندرونی بیانات اور سخت ردعمل نے اس عمل کو سبوتاژ کر دیا۔ ‘‘

سیٹھی کے مطابق اس کے بعد پارٹی کی پالیسی مزید سخت ہوتی گئی، جس کے نتیجے میں ملاقاتوں اور سیاسی سرگرمیوں پر قدغن لگائی گئی۔

ایمان مزاری کیس اور سفارتی ردعمل

پروگرام کے آخری حصے میں ایمان مزاری کے مقدمے اور نارویجن سفیر کی عدالت میں موجودگی پر بحث کی گئی۔ نجم سیٹھی نے اس حوالے سے کہا کہ ماضی میں بھی غیر ملکی سفارت کار حساس مقدمات میں بطور مبصر شریک ہوتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا،  ’’یہ کہنا کہ کسی سفیر کی موجودگی داخلی معاملات میں مداخلت ہے، درست نہیں۔ انسانی حقوق کی نگرانی ان کے مینڈیٹ کا حصہ ہے۔ ‘‘

سیٹھی کے مطابق اس معاملے پر فارن آفس کی وضاحت اور ردعمل میں بھی ابہام پایا گیا، جس نے مزید سوالات کو جنم دیا۔

افغان فتویٰ اور علاقائی تناظر

گفتگو میں افغان علماء کے فتویٰ اور اس کی ممکنہ اہمیت پر بھی بات ہوئی۔ نجم سیٹھی کے مطابق یہ بیان دراصل پسِ پردہ سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے، جس کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا،  ’’یہ ایک اشارہ ہے کہ سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو، مگر اس کے عملی اثرات وقت کے ساتھ سامنے آئیں گے۔ ‘‘

پروگرام کے اختتام پر میزبان نے اس بات پر زور دیا کہ جنرل (ر) فیض حمید کی سزا محض ایک قانونی فیصلہ نہیں بلکہ ایک بڑے سیاسی اور ادارہ جاتی مباحثے کا حصہ بن چکی ہے۔ نجم سیٹھی کے مطابق آئندہ دنوں میں اصل توجہ اس بات پر رہے گی کہ عمران خان، پی ٹی آئی اور ریاستی ادارے اس نئی صورتحال میں کیا راستہ اختیار کرتے ہیں، اور آیا یہ فیصلہ کسی وسیع تر پالیسی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے یا نہیں۔

 

بشکریہ دنیا نیوز

دیگر متعلقہ خبریں