ماہرین صحت نے سردیوں میں یورک ایسڈ بڑھانے والی سبزیوں سے پرہیز کی ہدایت کی ہے تاکہ جوڑوں کی تکلیف میں اضافہ نہ ہو۔
یورک ایسڈ جسم میں پیورین کے ٹوٹنے سے بنتا ہے اور اگر گردے اسے صحیح طریقے سے خارج نہ کریں تو یہ جوڑوں میں کرسٹل کی شکل میں جمع ہو کر درد پیدا کرتا ہے۔
یورک ایسڈ کے مریضوں کو خاص طور پر سردیوں میں پالک، پھول گوبھی، بینگن، مٹر اور آلو سے پرہیز کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے کیونکہ یہ سبزیاں یورک ایسڈ کی سطح میں اضافہ کر کے جوڑوں میں اکڑن اور سوجن کا سبب بن سکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یورک ایسڈ کے مریضوں کو ایسی سبزیوں کا استعمال کرنا چاہیے جن میں پیورین کی مقدار کم ہو، جیسے لوکی، کدو، تورئی اور کھیرے۔
زیادہ پانی پینا، لال گوشت اور زیادہ پروٹین والی خوراک کو محدود کرنا اور ہلکی ورزش کرنا بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے تاکہ سوجن کم ہو اور جوڑوں کے درد میں ریلیف ملے۔
سردیوں میں خوراک کی عادات پر توجہ دینا ضروری ہے تاکہ یورک ایسڈ سے متعلق مشکلات سے بچا جا سکے۔











