صدی کا طویل ترین سورج گرہن 2 اگست 2027 کو ہوگا، جو مصر کے لکسر شہر کے قریب 6 منٹ اور 23 سیکنڈز تک مکمل حالت میں رہے گا۔
قاہرہ: (رائیٹ ناوٴ نیوز) دنیا بھر کے فلکیات کے شائقین اور سائنسدان 2 اگست 2027 کو ہونے والے صدی کے طویل ترین سورج گرہن کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس روز چاند، سورج کی روشنی کو مکمل طور پر روک دے گا، جس سے کئی علاقوں میں دن رات کی مانند تاریک ہو جائے گا۔
یہ گرہن مصر کے شہر لکسر کے قریب 6 منٹ اور 23 سیکنڈز تک مکمل حالت میں رہے گا، جو اس صدی کے کسی بھی زمینی مقام پر سب سے لمبے دورانیے کا گرہن ہوگا۔
سورج گرہن کی مکمل لکیر جنوبی یورپ، شمالی افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک سے گزرے گی، جن میں اسپین، مراکش، الجزائر، تیونس، لیبیا، مصر، سعودی عرب، یمن اور صومالیہ شامل ہیں۔
گرہن کی ابتدا مشرقی امریکا کے سمندر سے ہوگی اور یہ سفر تقریباً پانچ ہزار کلومیٹر طے کر کے بحرِ احمر کے پار افریقہ سے مشرق وسطیٰ تک پھیلے گا۔
مکمل گرہن کے دوران آسمان مدھم پڑ جائے گا، جانور چپ سادھ لیں گے اور پرندے گھونسلوں کا رخ کریں گے، جبکہ ستارے و سیارے دن کے وقت نمایاں ہوں گے۔ سورج کا کرونہ چاند کے گرد چمکتی ہوئی انگوٹھی کی صورت میں دکھائی دے گا۔
پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں جزوی سورج گرہن نظر آئے گا۔ سورج گرہن کے دوران انفراریڈ اور الٹرا وائلٹ شعاعیں آنکھ کے ریٹینا کو نقصان پہنچا سکتی ہیں، اس لیے آئی ایس او سند یافتہ حفاظتی چشمے استعمال کیے جائیں۔
یہ سورج گرہن تاریخی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اگلا طویل اور مکمل سورج گرہن 2044 میں ہوگا، جس کا نظارہ عوامی آگاہی اور فلکیاتی تحقیق کے لیے قیمتی موقع فراہم کرے گا۔















