ڈھڈوچہ ڈیم کے لیے گھروں کی مسماری کا حکم، مکینوں کوحتمی نوٹس جاری

ضلعی انتظامیہ نے ڈھڈوچہ ڈیم کے لیے مکینوں کو گھروں کی مسماری اور علاقے کی خالی کرنے کا حکم دیا، جبکہ معاوضے کا تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

راولپنڈی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ضلعی انتظامیہ نے ڈھڈوچہ ڈیم منصوبے کے لیے حاصل کردہ 7,250 کنال پر رہائش پذیر تمام مکینوں کو حتمی نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے گھروں، شیڈز اور مویشیوں کے باڑے خود گرا کر 31 دسمبر تک علاقہ خالی کریں۔

حکام نے خبردار کیا ہے کہ جو پراپرٹی مقررہ تاریخ تک خالی نہ ہوئی، اسے یکم جنوری کو مسمار کر دیا جائے گا۔ حتمی نوٹس جاری ہونے کے بعد مکین خود اپنے گھروں اور مویشیوں کے باڑوں کو مسمار کرنے لگے ہیں جبکہ زمین کے معاوضے کا تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔

تمام 270 متاثرہ خاندانوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ عدالت میں ریفرنس دائر کریں گے، ان کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخ 239,000 روپے فی کنال قیمتی زمین کے لیے بالکل ناکافی ہیں۔

تین دیہات، خانپور، بھروالہ اور موہرا فیض اللہ، مکمل طور پر ڈیم کی سائٹ میں شامل ہوں گے جبکہ ڈھڈوچہ، رازی سہال اور چار ملحقہ بستیوں میں صرف زرعی زمین اور جنگلات شامل ہیں۔

ڈیم ڈھڈوچہ گاؤں، کلر سیداں میں، راولپنڈی سے 25 کلومیٹر دور واقع ہے۔ اس کی تخمینہ لاگت 2022 میں 6.027 ملین روپے تھی اور اسے 31 دسمبر 2025 تک مکمل کرنے کا ہدف تھا۔

تعمیراتی مواد کی بڑھتی قیمتوں کے باعث تخمینہ اب 14 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے اور تکمیل کی تاریخ 31 دسمبر 2027 تک بڑھا دی گئی ہے۔ ڈیم راولپنڈی کو روزانہ 35 ملین گیلن پانی فراہم کرے گا اور اس کی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 60,000 ایکڑ فٹ ہے۔

متاثرہ زمین کے مالک اجمل جمشید نے کہا کہ انتظامیہ اور نیم فوجی دستے جبری طور پر مکانات گرانے لگے ہیں۔ کچھ گھروں کو جزوی معاوضہ ملا ہے جبکہ 90 فیصد کو کوئی رقم نہیں ملی اور ان سے کہا جا رہا ہے کہ زمین خالی کرنے کے بعد ہی معاوضہ ملے گا۔

جنہیں ادائیگی ہوئی، انہیں 16,000-17,000 روپے فی مرلہ دیے گئے، جسے مکین مسترد کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ وہ مارکیٹ ریٹ کے معاوضے کے لیے سول کورٹ میں ریفری جج کے سامنے ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔

دیگر متعلقہ خبریں