ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں نظام کی تبدیلی کا دعویٰ کیا ہے، جس سے علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
واشنگٹن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایران کے متعلق سخت مؤقف اپنایا ہے۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران میں مکمل اور فیصلہ کن نظام کی تبدیلی آ چکی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران میں مختلف، زیادہ سمجھ دار اور کم شدت پسند سوچ رکھنے والے عناصر اب آگے آ سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے 47 سال کے مبینہ جبر، بدعنوانی اور ہلاکتوں کے خاتمے کی بات کی ہے۔
ان کے بیان کے بعد ایران سے متعلق علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ کے الفاظ نے اس سوال کو اہم بنا دیا ہے کہ آیا واشنگٹن ایران کے سیاسی مستقبل سے متعلق کوئی بڑا اشارہ دے رہا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ایران خطے کی سیاست، سلامتی اور سفارتی ماحول پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ اس کے اثرات فوری طور پر منظر عام پر آ سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ ایران میں نظام کی تبدیلی سے متعلق امریکی صدر کا یہ لہجہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایسے بیانات خطے کی سیاست پر فوری اثر ڈال سکتے ہیں۔











