روٹ کینال کے بعد دانتوں کی صحت کے لیے مخصوص ٹیسٹ لازمی ہیں، جو ممکنہ انفیکشن کا بروقت پتہ لگاتے ہیں۔
کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) دانتوں کی حفاظت کے لیے روٹ کینال ٹریٹمنٹ (آر سی ٹی) ایک مقبول طریقہ کار ہے، مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف فلنگ یا کیپ لگوانے پر مطمئن نہیں ہونا چاہیے۔
روٹ کینال کے ذریعے خراب دانت کو محفوظ رکھنے کے بعد جراثیم ختم کیے جاتے ہیں اور مخصوص فلنگ کی جاتی ہے۔ دانت کو مضبوط بنانے کے لیے اس پر کیپ بھی لگائی جاتی ہے تاکہ وہ دوبارہ عام استعمال کے قابل ہو سکے۔
ڈینٹسٹ کا کہنا ہے کہ روٹ کینال کے بعد دانتوں کی طویل مدتی صحت کے لیے کچھ مخصوص ٹیسٹ کروانا ضروری ہیں۔ سی بی سی ٹی اسکین اگلے 3 سے 5 سالوں کے اندر لازمی کروائیں تاکہ کسی بھی ممکنہ انفیکشن کا پتہ چل سکے۔
یہ ٹیسٹ دانتوں کی جڑوں میں چھپی خرابی کو ظاہر کرتے ہیں جو عام ایکسرے میں نظر نہیں آتی۔ کامیاب روٹ کینال کی صورت میں اسکین صاف ظاہر ہوگا، جبکہ سی آر پی ٹیسٹ دانتوں کی جڑوں کی سوزش کا پتہ لگاتا ہے۔
یاد رہے کہ روٹ کینال والے دانت کی صفائی اور حفاظت کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ فلورائیڈ ٹوتھ پیسٹ استعمال کریں، سخت غذا سے پرہیز کریں اور ڈینٹل فلاس کا استعمال لازمی کریں۔















