پاکستان میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے بعد سائیکل کے استعمال پر غور شروع ہو گیا ہے، چین اور یورپ کی مثالیں سامنے آ رہی ہیں۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان میں پٹرول 458.40 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 520.35 روپے فی لیٹر تک پہنچنے کے بعد سستے ذرائع آمدورفت پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ چین اور یورپ کے ممالک میں سائیکل کو روزمرہ سفر کا ذریعہ بنانے کی مثالیں دوبارہ سامنے آ رہی ہیں۔
نیدرلینڈز میں 27 فیصد سفر سائیکل پر ہوتے ہیں، جبکہ ڈنمارک میں 15 فیصد سفر اور 10 کلومیٹر سے کم فاصلے کے 21 فیصد سفر سائیکل سے کیے جاتے ہیں۔
چین میں بھی سائیکلنگ اور ای بائیک کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ چینی سرکاری اعداد کے مطابق ملک میں ای بائیکس کی تعداد 35 کروڑ سے بڑھ چکی ہے، جبکہ 360 سے زیادہ شہروں میں 1 کروڑ 94 لاکھ 50 ہزار شیئرڈ بائیکس چل رہی ہیں۔ سرکاری اعداد کے مطابق ان شیئرڈ بائیکس پر یومیہ اوسط سفر 4 کروڑ 57 لاکھ تک پہنچ چکا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑے شہری نظام میں سائیکل اب بھی اہم نقل و حرکت کا حصہ ہے۔
ان ممالک کی کامیابی کے پیچھے صرف عوامی شوق نہیں بلکہ شہری منصوبہ بندی بھی ہے۔ نیدرلینڈز کی حکومت کے مطابق وہاں سائیکل کو سڑک، پارکنگ اور مقامی سفری پالیسی کا مستقل حصہ بنایا گیا ہے، جبکہ بیجنگ میں خصوصی سائیکل روٹس اور الگ انفراسٹرکچر کو وسعت دی جا رہی ہے۔ بیجنگ کی 21 ثقافتی و سیاحتی سائیکل روٹس کی مجموعی لمبائی 730.8 کلومیٹر ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ چین کے بڑے شہر سائیکلنگ کو باقاعدہ شہری سہولت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
پاکستان میں مسئلہ اب صرف ایندھن کی قیمت نہیں بلکہ آمدورفت کے مجموعی خرچ کا بھی ہے۔ موٹر سائیکل، رکشہ، آن لائن بائیک سروس اور نجی گاڑی سب پہلے کے مقابلے میں مہنگے پڑ رہے ہیں، جبکہ آن لائن مارکیٹ میں ایک بنیادی سائیکل تقریباً 15,980 روپے سے شروع ہو رہی ہے، عام ماڈل 20 ہزار سے 35 ہزار روپے کے درمیان مل رہے ہیں اور کچھ بہتر ماڈلز 50 ہزار روپے تک جا رہے ہیں۔ اس لحاظ سے ایک بار خریدی گئی سائیکل بار بار ایندھن، کرائے اور روزانہ کے سفری خرچ سے بچت کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
تاہم پاکستان کے بڑے شہروں میں سائیکل کے فروغ کی سب سے بڑی رکاوٹ بنیادی ڈھانچے کی کمی ہے۔ ملک میں روزانہ سائیکل استعمال کرنے والوں کا کوئی تازہ جامع سرکاری قومی ریکارڈ نمایاں طور پر دستیاب نہیں، البتہ گیلپ پاکستان کے مطابق 2023 میں 55 فیصد پاکستانیوں نے کہا کہ وہ سائیکل چلانا جانتے ہیں، جبکہ 45 فیصد نے کہا کہ وہ سائیکل نہیں چلا سکتے۔ اسی طرح گیلپ کے تاریخی اعداد کے مطابق 2019 میں 10 فیصد گھروں میں سائیکل موجود تھی، اور 2024-25 میں یہ تناسب 5.6 فیصد تک آ گیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ سائیکل کی ملکیت میں کمی آئی ہے۔
بڑے شہروں میں چند محدود منصوبوں کے سوا سائیکل کے لیے علیحدہ اور محفوظ لینز کا باقاعدہ جال موجود نہیں۔ اسلام آباد میں حال ہی میں سائیکل ٹریکس اور پیدل راستوں کے نئے منصوبے کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ لاہور میں بھی ایک محدود پائلٹ بائیک لین منصوبہ شروع کیا گیا تھا، لیکن مجموعی طور پر کراچی، لاہور، راولپنڈی اور دیگر بڑے شہری مراکز میں سائیکل اب بھی مرکزی ٹرانسپورٹ پالیسی کا حصہ نہیں بن سکی۔
ماہرین کے مطابق اگر ایندھن کی مسلسل مہنگائی کے دور میں مختصر فاصلے کے سفر کے لیے سائیکل کو فروغ دیا جائے تو اس سے گھریلو بجٹ، ٹریفک دباؤ اور فضائی آلودگی تینوں میں کمی آ سکتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق سائیکل چلانا جسمانی سرگرمی بڑھانے، دل کی صحت بہتر بنانے اور غیر متحرک طرز زندگی کے خطرات کم کرنے میں مدد دیتا ہے، جبکہ محفوظ پیدل اور سائیکل سفری پالیسیوں سے فضائی آلودگی کے بوجھ میں بھی کمی آ سکتی ہے۔
یاد رہے کہ ماہرین صحت بالغ افراد کو ہفتے میں کم از کم 150 منٹ معتدل جسمانی سرگرمی کا مشورہ دیتے ہیں، اور سائیکل اس ہدف کو روزمرہ زندگی میں شامل کرنے کا آسان ذریعہ بن سکتی ہے۔ ڈاکٹروں اور صحت کے ماہرین کی عمومی تجاویز میں یہ شامل ہے کہ ابتدا کم فاصلے سے کی جائے، ہیلمٹ استعمال کیا جائے، رات میں لائٹس لگائی جائیں، نمایاں لباس پہنا جائے اور جہاں ممکن ہو محفوظ یا مخصوص لین ہی اختیار کی جائے۔











