ہیرے کی قیمت میں کمی اور دوبارہ بیچنے پر نقصان کی وجہ سے سرمایہ کاری کے لیے غیر موزوں ہیں۔
کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) صدیوں سے ہیرے کو دولت کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے، مگر خریدنے کے بعد ان کی قیمت میں کمی آتی ہے۔ اس لیے ہیرے سرمایہ کاری کے لیے اچھا انتخاب نہیں ہیں۔
ماضی میں ہیروں کی قیمت زیادہ تھی کیونکہ ان کی سپلائی چند کمپنیوں کے قبضے میں تھی۔ لیکن ٹیکنالوجی کی بدولت اب ہیرے بنانا کان کنی کا محتاج نہیں رہا، جس سے نایابی کا تصور ختم ہو رہا ہے۔
جب آپ ہیرے خریدتے ہیں تو برانڈ، مارکیٹنگ، دکاندار کا منافع اور جیولری فیس بھی شامل ہوتی ہے۔ اس کے برعکس سونے کی عالمی قیمت طے شدہ ہوتی ہے، جبکہ ہیرے کی نہیں۔
ہیرے بیچنے پر کم قیمت ملتی ہے، دکاندار خریداری کی قیمت سے بہت کم دیتے ہیں۔ لیب میں بنائے گئے ہیرے بھی مارکیٹ میں دستیاب ہیں، جو قدرتی ہیرے کی طرح دکھتے ہیں۔
واضح رہے کہ ری سائیکل ڈائمنڈز کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے، جبکہ سونا سرمایہ کاری کے لیے محفوظ رہتا ہے۔ ہیرے صرف لگژری کنزیومر پروڈکٹ کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔















