برطانوی قیادت میں 30 سے زائد ممالک نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے سفارتی دباؤ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
لندن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) دنیا کے 30 سے زائد ممالک نے ایک اہم ورچوئل اجلاس میں شرکت کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ایران کے خلاف جاری امریکی-اسرائیلی جنگ کے باعث بند ہونے والی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے سفارتی اور سیاسی دباؤ بڑھایا جا سکے۔
برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کے مطابق، یہ اجلاس برطانیہ کی وزیر خارجہ ایویٹ کوپر کی سربراہی میں ہوگا، جس میں جہاز رانی کی آزادی بحال کرنے کے لیے مؤثر اقدامات پر غور کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، پھنسے ہوئے جہازوں اور ملاحوں کی حفاظت کو یقینی بنانے اور ضروری اشیاء کی ترسیل کو دوبارہ شروع کرنے کے اقدامات پر بھی غور کیا جائے گا۔
ایران کی جانب سے تجارتی جہازوں پر حملوں کے خدشات کے باعث خلیج فارس کی آبی گزرگاہ میں بحری ٹریفک معطل ہو چکی ہے۔ اس کی وجہ سے عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
واضح رہے کہ امریکا اس اجلاس میں شریک نہیں ہوگا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی امریکا کی ذمہ داری نہیں ہے۔
یاد رہے کہ برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، کینیڈا، جاپان اور متحدہ عرب امارات سمیت 35 ممالک نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی کوششیں بند کرے اور محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے اقدام کرے۔














