وزیراعلیٰ سندھ نے متنازع افسر کامران خان کی اسپیشل سیکیورٹی یونٹ میں تعیناتی پر سوالات اٹھائے ہیں۔
کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) سندھ میں ایک حیران کن پیشرفت ہوئی ہے جہاں زمینوں پر قبضے میں ملوث قرار دیے گئے پولیس افسر کو دوبارہ حساس یونٹ میں تعینات کر دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ ماضی میں اس افسر کے خلاف کھل کر بیان دے چکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق سندھ پولیس کے متنازع افسر کامران خان کو ایک بار پھر اہم ذمہ داری دی گئی ہے۔ انہیں اسپیشل سیکیورٹی یونٹ (ایس ایس یو) میں تعینات کیا گیا ہے، جس پر مختلف حلقوں نے سوالات اٹھائے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق کامران خان کو ماضی میں زمینوں پر قبضے میں ملوث قرار دیا گیا تھا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ایک پریس کانفرنس میں ان کا نام لیا اور انہیں قبضہ گروپ کا حصہ قرار دیا تھا۔
وزیراعلیٰ نے کہا تھا کہ متنازع افسران کو صوبے میں تعینات نہیں کیا جائے گا، مگر حالیہ نوٹیفکیشن نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔
واضح رہے کہ آئی جی سندھ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے بعد گڈ گورننس اور احتساب کے دعووں پر بحث شروع ہو گئی ہے، جبکہ عوامی سطح پر اس فیصلے کو حیرت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔















