وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی فوج ایران کے جزیرہ خارگ پر کسی بھی وقت کارروائی کر سکتی ہے، جو ایران کی تیل برآمدات کا اہم مرکز ہے۔
واشنگٹن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ حکم دیں تو امریکی فوج ایران کے جزیرہ خارگ پر کسی بھی وقت کارروائی کر سکتی ہے۔ اس بیان کے بعد رپورٹس سامنے آئیں کہ واشنگٹن خارگ جزیرے کے محاصرے یا اس پر قبضے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ خارگ ایران کی تیل برآمدات کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی نائب ترجمان آنا کیلی نے کہا کہ امریکی فوج کے پاس اس نوعیت کی کارروائی کی صلاحیت موجود ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا کہ امریکا نے آبنائے ہرمز میں عسکری سرگرمیاں تیز کر دی ہیں اور جہاز رانی کے تحفظ کے لیے جنگی جہاز بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔
پینٹاگان کے منصوبے کے تحت امریکی فورسز ایرانی کشتیوں کو نشانہ بنانے کے لیے جنگی طیارے اور اپاچی ہیلی کاپٹر استعمال کر رہی ہیں۔ ان کارروائیوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو بحال کرنا بتایا جا رہا ہے، جبکہ صدر ٹرمپ نے بھی کہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر امریکی بحریہ تیل بردار جہازوں کی حفاظتی ہمراہی شروع کر سکتی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے ایک میزائل پلانٹ پر حملے کی تصاویر جاری کیں اور کہا کہ یہ تنصیب بیلسٹک میزائلوں کی تیاری کے لیے استعمال ہو رہی تھی۔ بعض علاقائی رپورٹس میں خارگ سے متعلق دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔
Prior to Operation Epic Fury, the Iranian regime used the Karaj Surface-to-Surface Missile Plant to assemble ballistic missiles that threatened Americans, neighboring countries, and commercial shipping. The photo dated March 1, 2026, shows the plant prior to U.S. strikes. The… pic.twitter.com/QEs5toZQpX
— U.S. Central Command (@CENTCOM) March 19, 2026
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے دنیا کے خام تیل اور مائع قدرتی گیس کا بڑا حصہ گزرتا ہے، جس کی رکاوٹوں نے عالمی توانائی منڈیوں میں بے چینی بڑھا دی ہے۔














