کیا پاکستان بھی مشرق وسطی میں جاری جنگ کا حصہ بنے گا؟چینی نژاد پروفیسر چیانگ کی پیش گوئی

پروفیسر چیانگ نے ایران جنگ کی طوالت اور عالمی معیشت پر اس کے ممکنہ اثرات کی پیش گوئی کی ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
ایران جنگ کی طوالت کا خدشہ، عالمی معیشت متاثر ہونے کا امکان

نیویارک: (رائیٹ ناوٴ نیوز) چینی نژاد کینیڈین پروفیسر چیانگ نے امریکی صحافی ٹکر کارلسن کو دیے گئے انٹرویو میں پیش گوئی کی ہے کہ ایران سے متعلق جنگ جلد ختم نہیں ہوگی بلکہ یوکرین جنگ کی طرح طویل اور تھکا دینے والے مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سعودی عرب براہ راست جنگ میں شامل ہوتا ہے تو پاکستان بھی اس جنگ کا حصہ بن سکتا ہے۔

چینی نژاد کینیڈین پروفیسر چیانگ نے امریکی صحافی ٹکر کارلسن کو دیے گئے ایک طویل انٹرویو میں پیش گوئی کی ہے کہ ایران سے متعلق جنگ فوری طور پر ختم نہیں ہوگی بلکہ یوکرین کی جنگ کی طرح ایک طویل، صبر آزما اور تھکا دینے والے تنازع میں بدل سکتی ہے۔ ان کے بقول اگر سعودی عرب براہ راست اس جنگ میں اترتا ہے تو پاکستان بھی اس کے دائرے میں آ سکتا ہے، کیونکہ خطے کی دفاعی صف بندی اور خلیجی سلامتی کے بندوبست جنوبی ایشیا کو اس بحران سے الگ نہیں رہنے دیں گے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ جنگ صرف ایران، اسرائیل اور امریکا تک محدود نہیں رہے گی بلکہ خلیج، جنوبی ایشیا، مشرقی ایشیا اور عالمی معیشت پر اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ پروفیسر چیانگ کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھتی ہے یا وہاں آمدورفت متاثر ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے، جس کے بعد دنیا کو توانائی کے بحران، خوراک کی کمی، صنعتوں کے سکڑاؤ اور سپلائی نظام کی خرابی کا سامنا ہو سکتا ہے۔

پاکستان کے حوالے سے اہم پیش گوئی

انٹرویو میں پروفیسر چیانگ نے سب سے اہم دعویٰ یہ کیا کہ پاکستان بھی اس جنگ کے اثرات سے براہ راست محفوظ نہیں رہے گا۔ ان کے مطابق اگر سعودی عرب ایران کے خلاف کھل کر میدان میں آتا ہے تو پاکستان پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں دفاعی تعلقات اور خلیجی سلامتی کے انتظامات ایسے ہیں کہ جنگ کا پھیلاؤ پاکستان کو بھی سفارتی، سیاسی یا سلامتی کے لحاظ سے متاثر کر سکتا ہے۔

انہوں نے اشارہ دیا کہ اس تنازع کو صرف عرب اسرائیل یا ایران امریکا محاذ آرائی کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے، کیونکہ اس کی جغرافیائی توسیع جنوبی ایشیا تک ہو سکتی ہے۔ ان کے بقول اگر جنگ پھیلتی ہے تو پاکستان جیسے ممالک کے لیے غیر جانبدار رہنا بھی مشکل ہو سکتا ہے۔

جنگ جلد کیوں ختم نہیں ہوگی؟

پروفیسر چیانگ کے مطابق ایران کا تنازع جلد نمٹتا دکھائی نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ یوکرین جنگ کی طرح ایک طویل جنگ بن سکتی ہے جس میں کوئی بھی فریق شکست تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہوگا۔ ان کے بقول جب جنگ ایک خاص مرحلے میں داخل ہو جاتی ہے تو پھر وہ اپنے اندر ایک الگ منطق اور رفتار پیدا کر لیتی ہے، جسے سفارتی بیانات سے روکنا آسان نہیں رہتا۔

انہوں نے کہا کہ بظاہر جنگ بندی سب کے مفاد میں ہو سکتی ہے، لیکن حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں جہاں دونوں طرف سخت مؤقف زیادہ مضبوط ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ فوری سیز فائر کی امید کمزور نظر آتی ہے۔

آبنائے ہرمز، تیل اور خوراک کا بحران

پروفیسر چیانگ نے آبنائے ہرمز کو اس بحران کا مرکزی نکتہ قرار دیا۔ ان کے بقول اگر وہاں سے تیل اور گیس کی رسد متاثر ہوتی ہے، جہاز رانی میں رکاوٹ آتی ہے یا عسکری تصادم شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی توانائی منڈی ہل کر رہ جائے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی حکمت عملی تیل کو 200 ڈالر فی بیرل تک لے جانے کی ہو سکتی ہے تاکہ جنگ کا معاشی دباؤ عالمی سطح پر منتقل ہو۔

ان کے مطابق مہنگی توانائی صرف پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں نہیں بڑھائے گی بلکہ کھاد، ٹرانسپورٹ، بجلی، فضائی سفر، صنعتی پیداوار اور خوراک کے پورے نظام پر ضرب لگائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہی صورت حال برقرار رہی تو دنیا کے کئی حصوں میں خوراک کی قلت پیدا ہو سکتی ہے، ایندھن کی راشن بندی کرنا پڑ سکتی ہے اور کئی معیشتیں صنعتی سکڑاؤ کی طرف جا سکتی ہیں۔

امریکا کے لیے پسپائی مشکل کیوں ہے؟

پروفیسر چیانگ نے کہا کہ امریکا اس جنگ میں اس قدر الجھ چکا ہے کہ اس کے لیے آسانی سے پیچھے ہٹنا ممکن نہیں رہا۔ ان کے مطابق اگر واشنگٹن جنگ روکنے یا ایران کے ساتھ فوری جنگ بندی کی راہ اختیار کرتا ہے تو تہران جنگی نقصانات کی تلافی کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ ساتھ ہی ایران مشرق وسطیٰ سے امریکا کے مستقل انخلا کی شرط بھی رکھ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ صرف فوجی نہیں بلکہ مالی اور تزویراتی بھی ہے۔ ان کے بقول اگر امریکا خلیج سے نکلتا ہے تو پیٹرو ڈالر نظام کمزور پڑ سکتا ہے، کیونکہ خلیجی تیل کی تجارت میں ڈالر کی مرکزی حیثیت امریکی معیشت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ پروفیسر چیانگ کے مطابق اگر عرب ممالک تیل کی تجارت میں ڈالر سے ہٹتے ہیں تو امریکی مالی نظام، قرضوں کے ڈھانچے اور عالمی اثر و رسوخ کو دھچکا لگ سکتا ہے۔

چین جنگ کی بجائے جنگ بندی کیوں چاہتا ہے؟

انہوں نے کہا کہ چین اس جنگ میں براہ راست شامل نہیں، تاہم وہ فوری سیز فائر چاہتا ہے۔ ان کے مطابق چین کی تقریباً 40 فیصد توانائی ضروریات خلیجی ممالک سے پوری ہوتی ہیں، اس لیے بیجنگ کے لیے خلیج میں استحکام ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین تجارت، توانائی کے تسلسل اور سمندری راستوں کے تحفظ میں دلچسپی رکھتا ہے، نہ کہ براہ راست عسکری مداخلت میں۔

پروفیسر چیانگ کے بقول اگر آبنائے ہرمز یا خلیجی سپلائی لائنز متاثر ہوتی ہیں تو چین، جاپان، بھارت، پاکستان اور جنوب مشرقی ایشیا کی معیشتیں شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ چینی پالیسی ساز عمومی طور پر براہ راست مداخلت سے گریز کرتے ہیں، اس لیے وہ جنگ بندی کے خواہاں ہونے کے باوجود فیصلہ کن کردار ادا کرنے میں محدود نظر آتے ہیں۔

علی لاریجانی کی ہلاکت اور بند ہوتا سفارتی راستہ

پروفیسر چیانگ نے علی لاریجانی کی ہلاکت کو جنگ کے ایک اہم موڑ کے طور پر بیان کیا۔ ان کے مطابق لاریجانی ایران میں ایسی بااثر شخصیت تھے جو عسکری اور سفارتی حلقوں کے درمیان ایک قابل قبول پل کا کردار ادا کر سکتے تھے۔ انہوں نے انہیں ایک عملیت پسند رہنما قرار دیا اور کہا کہ ان کی موجودگی میں شاید جنگ بندی یا پس پردہ مذاکرات کی کوئی صورت نکل سکتی تھی۔

ان کے بقول اب جب ایسی شخصیت منظر سے ہٹ گئی ہے تو سفارتی راستہ مزید تنگ ہو گیا ہے اور دونوں جانب سخت گیر سوچ غالب آ سکتی ہے۔ اسی لیے انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کا قابل عمل راستہ تقریباً معدوم ہو چکا ہے۔

تین بڑی عالمی تبدیلیوں کی پیش گوئی

پروفیسر چیانگ نے کہا کہ یہ جنگ دنیا میں 3 بڑے رجحانات کو تیز کرے گی۔ پہلا رجحان صنعتوں کے سکڑاؤ کا ہے، کیونکہ سستی توانائی کے بغیر موجودہ صنعتی ڈھانچہ برقرار رکھنا مشکل ہوگا۔ دوسرا رجحان دوبارہ عسکریت پسندی کا ہے، کیونکہ ان کے بقول امریکا عالمی امن نافذ کرنے کی سابقہ صلاحیت کھو رہا ہے اور اب ممالک اپنے دفاع کے لیے خود دوبارہ مسلح ہوں گے۔

تیسرا رجحان ان کے مطابق تجارتی خود مختاری کی طرف واپسی ہے، جس کے تحت ریاستیں اپنی الگ سپلائی چینز اور خود کفیل معاشی ڈھانچے بنانے پر مجبور ہوں گی۔ ان کے بقول اس نئی دنیا میں وہی ممالک زیادہ بہتر کارکردگی دکھا سکیں گے جو داخلی استحکام، وسائل کے نظم اور طویل بحران کے مقابلے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

خلیجی ممالک کے ’سراب‘ کا خاتمہ

پروفیسر چیانگ نے کہا کہ اس جنگ کا سب سے زیادہ نقصان خلیجی تعاون کونسل کے ممالک کو ہوگا۔ ان کے مطابق دبئی، دوحہ اور دیگر خلیجی مراکز کی خوش حالی ایک ایسے نازک ڈھانچے پر کھڑی ہے جس کا انحصار توانائی، سمندری تجارت، درآمدی خوراک اور پانی صاف کرنے کے جدید پلانٹس پر ہے۔ جنگ کی صورت میں یہی ڈھانچہ سب سے زیادہ غیر محفوظ ہو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر تنصیبات، بندرگاہیں، پانی صاف کرنے کے پلانٹس یا توانائی کے مراکز نشانہ بنتے ہیں تو خلیجی شہروں کی روزمرہ زندگی اور معاشی سرگرمیوں کو شدید دھچکا لگے گا۔ ان کے بقول خلیجی خوش حالی کا جو تاثر دنیا کے سامنے پیش کیا گیا، جنگ نے اسے ایک سراب کے طور پر بے نقاب کر دیا ہے۔

اسرائیل سب سے بڑا فائدہ اٹھانے والا؟

پروفیسر چیانگ نے دعویٰ کیا کہ اس جنگ سے سب سے زیادہ تزویراتی فائدہ اسرائیل اٹھا سکتا ہے۔ ان کے مطابق علاقائی افراتفری، عرب دنیا کے عدم استحکام اور ایران پر دباؤ سے اسرائیل کو اپنے طویل المدتی اہداف کے لیے گنجائش مل سکتی ہے۔ انہوں نے اسے مبینہ ’گریٹر اسرائیل‘ منصوبے کے تناظر میں دیکھا اور کہا کہ اسرائیل امریکی اثر و رسوخ کو کمزور کر کے مشرق وسطیٰ میں زیادہ آزادانہ کردار چاہتا ہے۔

ان کے مطابق امریکا کی مسلسل عسکری الجھن خود اسرائیل کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے، کیونکہ اس صورت میں خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے۔ تاہم یہ تمام نکات انہوں نے بطور تجزیہ اور پیش گوئی بیان کیے۔

کیا امریکی فوج کو ویتنام جیسی صورت حال کا سامنا ہے؟ 

پروفیسر چیانگ نے کہا کہ امریکی فوج جدید ہتھیاروں کے باوجود اس قسم کی جنگ میں مشکل کا شکار ہو سکتی ہے، کیونکہ ان کے بقول ایران نے برسوں سے ایسے تصادم کی تیاری کی ہے۔ انہوں نے امریکی فوج کو بھاری، سست اور بڑے پیمانے کے روایتی ڈھانچے والی قوت قرار دیا، جبکہ ایرانی طرز جنگ کو زیادہ لچکدار اور علاقائی جغرافیے سے ہم آہنگ بتایا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکا زمینی فوج بھیجتا ہے، مثلاً جزیرہ خارگ یا ساحلی علاقوں میں کوئی محدود کارروائی کرتا ہے، تو یہ محدود مداخلت جلد ہی ویتنام طرز کی طویل جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق ایک چھوٹا فوجی قدم بعد میں وسیع قبضے، مزید افرادی قوت اور طویل عسکری موجودگی کی دلدل بن سکتا ہے۔

مشرق وسطی کی جنگ اور مذہبی بیانیے

انٹرویو میں پروفیسر چیانگ نے جنگ کا ایک مذہبی پہلو بھی نمایاں کیا۔ ان کے مطابق اسرائیل اور امریکا کے بعض حلقے اس تنازع کو محض فوجی یا جغرافیائی مسئلہ نہیں بلکہ مذہبی پیش گوئیوں کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل میں بعض انتہا پسند مذہبی عناصر اور امریکا میں بعض عیسائی صہیونی حلقے اس کشیدگی کو ایک بڑے مذہبی منصوبے کا حصہ سمجھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان حلقوں میں ہیکل سلیمانی کی تعمیر، آخری زمانے کی پیش گوئیوں اور خطے میں بڑے مذہبی تصادم جیسے تصورات زیر بحث رہتے ہیں۔ ان کے بقول یہی نظریاتی سوچ جنگی بیانیے کو مزید شدت دے سکتی ہے۔ تاہم یہ تمام دعوے انہوں نے بطور تجزیہ پیش کیے، جن کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

کیا امریکا مغربی نصف کرہ تک محدود ہو جائے گا؟

پروفیسر چیانگ نے کہا کہ اگر موجودہ عالمی بحران لمبا کھنچتا ہے تو امریکا کو اپنی عالمی بالادستی سمیٹ کر مغربی نصف کرہ تک محدود ہونا پڑ سکتا ہے۔ ان کے بقول امریکا ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جہاں اسے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے اپنے بوجھ کم کر کے اپنے براعظمی وسائل اور ہمسایہ جغرافیے پر زیادہ توجہ دینا پڑ سکتی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایسی صورت میں امریکا کینیڈا، میکسیکو اور دیگر قریبی خطوں کو اپنے معاشی اور تزویراتی دائرے میں مزید مضبوطی سے لانے کی کوشش کرے گا، تاکہ عالمی تجارتی نظام کی کمزوری کے بعد اپنے لیے محفوظ سپلائی لائنز اور وسائل کی ضمانت حاصل کر سکے۔

امریکا میں داخلی انتشار کا خدشہ

پروفیسر چیانگ نے یہ پیش گوئی بھی کی کہ اگر جنگ طویل ہوتی ہے، معیشت دباؤ میں آتی ہے اور امریکا کو مزید فوجی افرادی قوت درکار ہوتی ہے تو داخلی سطح پر کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر لازمی فوجی بھرتی جیسا کوئی قدم اٹھایا گیا تو بڑے شہروں میں احتجاج، فسادات اور فرقہ وارانہ نوعیت کے ٹکراؤ دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔

ان کے بقول یہ کیفیت مکمل خانہ جنگی تو نہ سہی، مگر آئرلینڈ کے ماضی کے فسادات جیسی طویل داخلی بے چینی کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ انہوں نے اسے امریکا کے لیے ایک اہم داخلی خطرہ قرار دیا۔

مغرب کی ’ تباہی‘ اور تہذیبی بحران

گفتگو کے آخری حصے میں پروفیسر چیانگ نے مغربی دنیا کے سماجی اور تہذیبی بحران پر بھی اظہار خیال کیا۔ ان کے مطابق کینیڈا، برطانیہ اور یورپ کے بعض ممالک اپنی ہی اشرافیہ کے فیصلوں کے نتیجے میں ایک ایسی سمت بڑھ رہے ہیں جسے وہ ’منصوبہ بند تباہی‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ ان کے بقول بڑے پیمانے پر ہجرت، معاشی دباؤ، سماجی تقسیم اور ثقافتی ہم آہنگی کے ٹوٹنے سے مغربی معاشرے اندر سے کمزور ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ عمل صرف سیاست یا معیشت تک محدود نہیں بلکہ تعلیمی اداروں اور تہذیبی شناخت تک پھیل چکا ہے۔ ان کے مطابق مغربی یونیورسٹیوں نے ہومر، افلاطون اور ڈانٹے جیسے کلاسیکی فکری ورثے سے دوری اختیار کر لی ہے، جبکہ حیران کن طور پر چین جیسے ممالک انہی متون اور روایات میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں۔ پروفیسر چیانگ کے بقول اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ خود مغرب اپنی تہذیبی بنیادوں سے دور ہو رہا ہے۔

واضح رہے کہ پروفیسر چیانگ کی گفتگو پیش گوئیوں، سیاسی تجزیوں اور ممکنہ منظرناموں پر مبنی تھی۔ تاہم ان کے انٹرویو کے مرکزی نکات میں پاکستان کے اس جنگ میں کھنچے جانے کا خدشہ، آبنائے ہرمز کی بندش کے خطرات، تیل 200 ڈالر تک جانے کی پیش گوئی، خوراک اور توانائی کے بحران کا اندیشہ، امریکا کے لیے پسپائی کی مشکل، چین کی جنگ بندی کی خواہش، علی لاریجانی کی ہلاکت کے بعد سفارتی راستے کی کمزوری، خلیجی ریاستوں کے عدم استحکام، اسرائیل کے ممکنہ فائدے، مذہبی بیانیے کے اثرات اور مغربی دنیا کے تہذیبی بحران کا ذکر نمایاں رہا۔

دیگر متعلقہ خبریں