مورگن اسٹینلے کی رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ کی جنگ سے کھاد کی سپلائی متاثر، عالمی منڈی دباوٴ میں۔
دبئی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) مورگن اسٹینلے کی رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ سے نہ صرف تیل بلکہ کھاد کی سپلائی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ خطہ عالمی سطح پر سلفر، یوریا، اور امونیا کی سپلائی میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جو جنگی کارروائیوں کے باعث خطرے میں ہے۔
آبنائے ہرمز سے عالمی کھاد تجارت کا تقریباً ایک تہائی حصہ گزرتا ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ میں میزائل اور ڈرون حملوں کے باعث توانائی اور کھاد کی کئی تنصیبات متاثر ہوئی ہیں۔ قطر کی ایک یوریا تنصیب بند ہوئی، بھارت میں 3 پلانٹس کی پیداوار کم ہوئی اور بنگلہ دیش نے 4 فیکٹریاں بند کر دیں۔
مورگن اسٹینلے نے خبردار کیا ہے کہ کھاد، پیٹروکیمیکل مصنوعات اور سلفر کی سپلائی میں رکاوٹیں ایشیا کی معیشتوں پر اثر ڈال سکتی ہیں۔ قطر سے دنیا کی ایک تہائی ہیلیم برآمدات بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔
جنگ کے بعد مشرق وسطیٰ میں یوریا کی برآمدی قیمتیں 40 فیصد بڑھ کر 700 ڈالر فی ٹن ہو چکی ہیں، اگر تنازعہ طویل ہوا تو نائٹروجن کھاد کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جس سے فصلوں کی لاگت اور عالمی خوراک کی قیمتوں پر دباؤ بڑھے گا۔
موجودہ بحران 2022 کے برعکس جنگی حملوں، بندرگاہی رکاوٹوں اور فوری بندش سے جڑا ہے، جس سے توانائی کے بعد خوراک کی عالمی منڈی بھی دباؤ میں آ رہی ہے۔











