پاکستان انسٹیٹوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے پاکستانی معیشت متاثر ہو سکتی ہے، مہنگائی اور کرنٹ اکاونٹ خسارے میں اضافے کا خدشہ ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان انسٹیٹوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس نے ایک اسٹڈی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش پاکستانی معیشت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، مہنگائی اور کرنٹ اکاونٹ خسارے میں اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے راستے روزانہ بیس ملین بیرل تیل گزرتا ہے، جس کی ترسیل میں رکاوٹ سے قیمتیں فوری طور پر بڑھ سکتی ہیں۔ پاکستان میں مہنگائی اور بیرونی کھاتہ متاثر ہو سکتا ہے۔ پائیڈ کے مطابق، تیل کی سپلائی میں خلل سے مہنگائی آٹھ اعشاریہ آٹھ فیصد سے بارہ فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔
پائیڈ رپورٹ کا کہنا ہے کہ تیل کی درآمدات کا ماہانہ بل تین سو چوراسی ملین ڈالر تک بڑھنے کا خدشہ ہے، جس سے سالانہ کرنٹ اکاونٹ سرپلس چار اعشاریہ چھ ارب ڈالر خسارے میں جا سکتا ہے۔ رپورٹ میں توانائی کی مصنوعات، شپنگ، انشورنس، روپے کی قدر میں کمی اور ٹیکسوں کی وجہ سے قیمتوں میں اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
پائیڈ نے منفی اثرات سے بچنے کے لیے ہنگامی پالیسی اقدامات کی تجویز دی ہے۔ رپورٹ میں ٹرانسپورٹ، زراعت اور خوراک کے شعبوں میں استعمال ہونے والے ڈیزل کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے اور فیول پرائسنگ خصوصاً ڈیزل کی نگرانی کی سفارش کی گئی ہے۔ سپلائی چین میں بہتری سے ڈیزل پر انحصار کم ہو سکتا ہے۔















