پاکستان نے افغان طالبان سے مذاکرات کے لیے دہشت گردوں کی حوالگی کی شرط رکھی ہے، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا بیان۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان کے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان افغان طالبان سے بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن پہلے انہیں دہشت گردوں کو پاکستان کے حوالے کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ افغان طالبان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ ان کے لیے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اہم ہے یا پاکستان۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان نے دہشت گردوں کو چھپا رکھا ہے، حتیٰ کہ سرکاری عمارتوں میں بھی۔ پاکستان بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن پہلے دہشت گردوں کو ہمارے حوالے کیا جائے اور افغانستان میں دہشت گردی کے مراکز کو ختم کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ افغان طالبان نے صومالیہ کی الشباب اور اسامہ بن لادن کے بیٹے حمزہ کو بھی افغانستان آنے کی دعوت دی ہے، جس سے افغانستان دہشت گردوں کا مرکز بن چکا ہے۔ پاکستان نے ان دہشت گردوں کا راستہ روکا ہوا ہے اور یہ جنگ پاکستان، خطے اور دنیا کی ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل نے مزید کہا کہ پاکستان آرمی نے کابل میں افغان رجیم کے اسلحے کے ذخیرے اور ڈرون اسٹوریج کو نشانہ بنایا جو پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں استعمال ہو رہا تھا۔ یہ کارروائی افغان طالبان کے 53 حملوں کے جواب میں کی گئی، جنہوں نے پاکستان میں ہماری چیک پوسٹوں پر حملے کیے تھے۔ پاکستان نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں تاکہ ان کے انفرا اسٹرکچر کو ختم کیا جا سکے۔














