ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی اسرائیلی حملے میں شہید ہوگئے۔ ان کی شہادت سیاسی اور سکیورٹی ڈھانچے پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
تہران: (رائیٹ ناوٴ نیوز)ایران کی سرکاری میڈیا کے مطابق سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی اسرائیلی حملے میں شہید ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے دعویٰ کیا تھا کہ 67 سالہ لاریجانی کو رات گئے فضائی کارروائی میں نشانہ بنایا گیا۔ اسی حملے میں بسیج فورس کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل غلام رضا سلیمانی کی شہادت کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔
ایرانی میڈیا اور حکام نے تصدیق کی ہے کہ قومی سلامتی سے متعلق اعلیٰ عہدے پر فائز علی لاریجانی اسرائیلی حملے میں اپنے بیٹے مرتضیٰ لاریجانی اور ایک معاون سمیت شہید ہو گئے۔ ایرانی میڈیا رپورٹوں کے مطابق یہ واقعہ تہران میں پیر اور منگل کی درمیانی شب تقریباً 3 بج کر 30 منٹ پر پیش آیا۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ انفرادی شخصیات کی شہادت سے نظام کو نہیں ہلایا جا سکتا کیونکہ ریاستی ڈھانچا اداروں پر قائم ہے۔ واضح رہے کہ علی لاریجانی ایران کے بااثر مذہبی و سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور انہیں انقلاب کے بعد ابھرنے والی اہم سیاسی شخصیات میں شمار کیا جاتا تھا۔
علی لاریجانی کو آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران کی اعلیٰ قیادت میں مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی تھی۔ وہ جنگ کے دوران سکیورٹی حکمت عملی، سیاسی فیصلوں اور عبوری نظام کے اہم رکن سمجھے جاتے تھے۔ ایرانی قیادت میں انہیں ایک ایسے رہنما کے طور پر دیکھا جاتا تھا جو عسکری، سیاسی اور سفارتی حلقوں کے درمیان رابطہ قائم رکھنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
علی لاریجانی 3 جون 1958 کو عراق کے شہر نجف میں ایک بااثر مذہبی و سیاسی خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مرزا ہاشم آملی ایک معروف مذہبی عالم تھے جبکہ ان کے بھائی بھی عدلیہ اور مجلس خبرگان جیسے اہم اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔ ان کا خاندان ایران میں اس قدر اثر و رسوخ رکھتا تھا کہ انہیں ایک وقت میں “ایران کا کینیڈی خاندان” بھی کہا گیا۔
تعلیمی لحاظ سے لاریجانی کا پس منظر منفرد تھا۔ انہوں نے شریف یونیورسٹی سے ریاضی اور کمپیوٹر سائنس میں ڈگری حاصل کی اور بعد ازاں تہران یونیورسٹی سے مغربی فلسفے میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی مکمل کی۔ ان کی تحقیق جرمن فلسفی ایمانوئل کانٹ پر تھی، جس کے باعث انہیں ایک “فلسفی سیاستدان” بھی کہا جاتا تھا۔
سیاسی کیریئر میں انہوں نے ایرانی انقلاب کے بعد پاسداران انقلاب میں شمولیت اختیار کی اور بعد میں حکومتی عہدوں پر فائز ہوئے۔ وہ 1994 سے 1997 تک وزیر ثقافت رہے جبکہ 1994 سے 2004 تک سرکاری نشریاتی ادارے کے سربراہ بھی رہے۔ 2008 سے 2020 تک تین مرتبہ ایرانی پارلیمان کے اسپیکر منتخب ہوئے، جہاں انہوں نے داخلی اور خارجہ پالیسی پر نمایاں اثر ڈالا۔
جوہری پروگرام کے حوالے سے بھی لاریجانی کا کردار اہم رہا۔ وہ 2005 میں سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری اور چیف نیوکلیئر مذاکرات کار مقرر ہوئے اور 2015 کے عالمی جوہری معاہدے کی پارلیمانی منظوری میں کلیدی کردار ادا کیا۔ تاہم بعض مواقع پر انہوں نے حکومتی پالیسیوں سے اختلاف بھی کیا اور 2007 میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
2025 میں انہیں دوبارہ سکیورٹی کونسل کا سیکرٹری مقرر کیا گیا، جہاں انہوں نے جنگی حالات میں سخت مؤقف اختیار کیا۔ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد انہوں نے واضح کیا کہ ایران کسی دباؤ میں مذاکرات نہیں کرے گا اور ملکی دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔ اس کے باوجود ماضی میں انہیں ایک معتدل اور عملی سیاستدان بھی سمجھا جاتا رہا، جو سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کرنے کے حامی تھے۔
واضح رہے کہ ایران اسرائیل جنگ کے دوران اعلیٰ ایرانی قیادت کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس سے ملک کے سیاسی اور سکیورٹی ڈھانچے پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق علی لاریجانی کی شہادت ایران کے اسٹریٹجک فیصلوں اور مستقبل کی قیادت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔












