ایران کا قشم جزیرہ زیر زمین میزائل شہر کے باعث امریکی و اسرائیلی جنگ میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔
قشم: (رائیٹ ناوٴ نیوز)ایران کے قشم جزیرے پر زیر زمین میزائل شہر امریکی و اسرائیلی حملوں کے دوران اس خطے کی اہم اسٹریٹجک چابی بن چکا ہے۔ یہ جزیرہ اب سیاحت کی بجائے خلیج میں امریکی و اسرائیلی جنگ میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔
قشم جزیرہ ہرمزگان صوبے میں خلیج فارس کے آبنائے ہرمز کے راستے پر واقع ہے اور تاریخی و جغرافیائی اہمیت کے ساتھ ساتھ اب ایک اسٹریٹجک فوجی مرکز بھی بن چکا ہے۔ یہاں ایران نے زیر زمین نمک کی غاروں میں اپنے میزائل شہر قائم کیے ہیں جو امریکی و اسرائیلی حملوں کے دوران دفاعی قلعہ بن چکے ہیں۔
جزیرہ قشم، جو 1,445 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے، عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے اہم سمندری گذرگاہ ہرمز راستے کے داخلی حصے پر واقع ہے۔ اس کی اسٹریٹجک اہمیت کے باعث امریکی بحریہ کے لیے بھی یہ جزیرہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
جزیرے کے رہائشی، جو زیادہ تر سنی مسلمان ہیں، قدیم قدرتی خوبصورتی اور جدید فوجی کشیدگی کے سنگم میں اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔ 7 مارچ کو امریکی فضائی حملوں نے جزیرے کے ایک پانی صاف کرنے والے پلانٹ کو نشانہ بنایا، جس سے قریبی دیہات کے لیے پانی کی فراہمی متاثر ہوئی۔ ایران نے جوابی کارروائی میں بحرین کے جفیر اڈے کو نشانہ بنایا۔
ماہرین کے مطابق، قشم جزیرہ ایران کی بحری طاقت کے لیے اہم پلیٹ فارم ہے اور خلیج میں اسٹریٹجک قابو کے لیے ایران کی منصوبہ بندی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ جزیرہ تاریخی اہمیت بھی رکھتا ہے اور یہاں مختلف سلطنتوں نے فوجی اڈے قائم کیے تھے۔












