مسنون اعتکاف کے دوران غیر ضروری باہر نکلنے سے اعتکاف فاسد ہوجاتا ہے، جس کے بعد قضا اعتکاف لازم ہوتا ہے۔
کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) مسنون اعتکاف کے دوران غیر ضروری باہر نکلنے سے اعتکاف فاسد ہونے کا حکم ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی روایت کے مطابق، نبی کریم ﷺ دوران اعتکاف صرف طبعی حاجت کے لیے مسجد سے باہر نکلتے تھے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ طبعی حاجت کے بغیر گھر میں داخل نہیں ہوتے تھے۔ اعتکاف کے دوران نہ بیمار کی عیادت، نہ جنازے میں شرکت اور نہ ہی کسی اور مقصد کے لیے باہر نکلتے تھے۔
سنن ابی داؤد کی روایت کے مطابق، معتکف کو غیر ضروری طور پر باہر نہیں نکلنا چاہیے ورنہ مسنون اعتکاف فاسد ہو جاتا ہے۔ فاسد ہونے کی صورت میں ایک دن اور ایک رات کا اعتکاف بطور قضا کرنا ہوگا، جس میں روزہ بھی شامل ہوگا۔
ضروری ہے کہ قضا اعتکاف کی نیت کرتے ہوئے مغرب سے پہلے مسجد میں داخل ہوں اور اگلے دن مغرب کے بعد تک وہاں رہیں۔ اگر رمضان کے دن باقی ہوں، تو اسی رمضان میں قضا کرلینا چاہیے۔















