ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا سے حالیہ رابطوں کی تردید کی اور امریکی جنگی بیانات پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔
تہران: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا کے ساتھ کسی بھی حالیہ خفیہ رابطے کی تردید کی ہے۔ انہوں نے بیان دیا کہ امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف سے آخری رابطہ امریکی حملے سے قبل ہوا تھا اور اس کے بعد کوئی براہِ راست بات چیت نہیں ہوئی۔ عراقچی نے کہا کہ امریکا کے دعوے عوام اور تیل کے تاجروں کو گمراہ کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
My last contact with Mr. Witkoff was prior to his employer’s decision to kill diplomacy with another illegal military attack on Iran.
Any claim to the contrary appears geared solely to mislead oil traders and the public.
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) March 16, 2026
عباس عراقچی نے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے بیان پر سخت ردعمل دیا اور کہا کہ ‘کوئی رحم نہیں ہوگا’ جیسے الفاظ طاقت نہیں بلکہ اخلاقی دیوالیہ پن اور بین الاقوامی جنگی قوانین سے ناواقفیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے پیٹ ہیگستھ کو مشورہ دیا کہ وہ ہیگ کنونشن کا جائزہ لیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر خارگ جزیرہ پر کسی بھی ملک کی جانب سے حملہ کیا گیا تو ایران اس ملک کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔
مزید برآں، عباس عراقچی نے الزام عائد کیا کہ پیٹ ہیگستھ، اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ مل کر جنگی جرائم میں شراکت داری کے خواہاں ہیں۔











