ایرانی ڈرون خطرہ؟ امریکی طیارہ بردار جہاز ایران سے 1000 کلومیٹر دور کیوں ہٹ گیا؟

خلیج عمان میں امریکی بحری بیڑا ایرانی ڈرون خطرات کے باعث منتقل ہوا جبکہ امریکی فوج نے حملے کے دعوؤں کی تردید کی ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
امریکی بحری بیڑا ایرانی ڈرون خطرات کے بعد خلیج عمان منتقل

خلیج عمان: (رائیٹ ناوٴ نیوز) امریکی نیوی کے طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کو ایرانی ڈرون خطرات کے بعد ایران کے ساحل سے مزید دور منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ بحری بیڑا ایران سے تقریباً 1000 کلومیٹر دور خلیج عمان کے علاقے میں چلا گیا ہے۔

امریکی فوج نے ایرانی ڈرونز کے حملے کے دعووں کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ جہاز کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی ویڈیوز کو گمراہ کن قرار دیا گیا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر سے بحری بیڑے کی منتقلی کی تصدیق ضرور ہوئی ہے، مگر حملے کا ثبوت نہیں ملا۔

یہ پیش رفت اس وقت ہوئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے تحفظ کے لیے عالمی اتحاد بنانے کی اپیل کی ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے اس اتحاد میں بحری جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی اہم گزرگاہوں میں شامل ہے جہاں سے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے بعد اس راستے پر کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں