برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے اعلان کیا کہ برطانیہ ایران کے خلاف وسیع جنگ کا حصہ نہیں بنے گا، اور اس مسئلے کے تیزتر حل کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔
لندن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے کہا ہے کہ برطانیہ ایران کے خلاف کسی وسیع جنگ کا حصہ نہیں بنے گا اور اس مسئلے کے تیزتر حل کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔
کیئر سٹارمر نے مزید کہا کہ جنگ کے بعد ایران کے ساتھ معاہدے کی ضرورت ہوگی اور آبنائے ہرمز کو کھولنا کوئی سادہ کام نہیں ہے۔ اس مقصد کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مل کر سمندری آمدورفت کی بحالی پر کام کیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم نے توانائی کمپنیوں کو ہدایت کی کہ وہ اضافی منافع صارفین تک پہنچائیں اور لوگوں کی مشکلات سے فائدہ نہ اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ جلد یوکرین کے صدر زیلنسکی سے ملاقات کریں گے تاکہ پیوٹن کو ایران جنگ سے فائدہ اٹھانے سے روکا جا سکے۔
کیئر سٹارمر نے واضح کیا کہ ان پر ایران کے خلاف جنگ میں شامل نہ ہونے پر تنقید کی گئی، لیکن ان کا فیصلہ برطانوی عوام کے مفاد پر مبنی ہے۔ برطانوی افواج کو جنگ میں بھیجنے کے لیے قانونی جواز ضروری ہے اور ان کا کام برطانوی مفادات کا دفاع کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ روز صدر ٹرمپ سے آبنائے ہرمز پر تفصیلی بات چیت ہوئی، اور اس مسئلے پر قابل عمل پلان پر بات چیت جاری ہے، مزید اتحادیوں کو اس میں شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔











