خلیج فارس میں جزیرہ خرج ایران کے لیے کیوں اہم ہے؟

ایرانی جزیرہ خرج تیل برآمدات کا کلیدی مرکز ہے، جہاں سے 90 فیصد خام تیل عالمی منڈی کو پہنچتا ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
خلیج فارس میں جزیرہ خرج ایران کے لیے کیوں اہم ہے؟

تہران: (رائیٹ ناوٴ نیوز) خلیج فارس میں واقع ایرانی جزیرہ خرج ایران کی تیل معیشت کا کلیدی مرکز ہے، جہاں سے ملک کی تقریباً 90 فیصد خام تیل برآمدات عالمی منڈی تک پہنچتی ہیں۔ یہ جزیرہ بوشہر صوبے کے قریب تقریباً 22 مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے اور سخت فوجی نگرانی کی وجہ سے "ممنوعہ جزیرہ” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

یہ جزیرہ بوشہر بندرگاہ سے تقریباً 55 کلومیٹر دور واقع ہے اور یہاں بڑے آئل ٹرمینلز موجود ہیں جہاں سمندر کے اندر بچھائی گئی پائپ لائنوں کے ذریعے ایران کے مختلف تیل کے میدانوں سے خام تیل پہنچایا جاتا ہے۔ ان میدانوں میں ابوزر، فروزان اور درود شامل ہیں۔ یہاں سے ہر سال تقریباً 950 ملین بیرل تیل سپر ٹینکرز کے ذریعے عالمی منڈیوں کو برآمد کیا جاتا ہے۔

جزیرہ خرج کے اردگرد سمندر کا پانی گہرا ہے جس کی وجہ سے بڑے تیل بردار جہاز آسانی سے یہاں لنگر انداز ہو سکتے ہیں۔ اسی جغرافیائی برتری کی وجہ سے یہ جزیرہ ایران کے لیے ایک مرکزی تیل برآمدی مرکز بن چکا ہے۔ ایران کے زیادہ تر تیل کی ترسیل ایشیائی منڈیوں خصوصاً چین کو کی جاتی ہے۔

ایران نے گزشتہ برسوں میں پابندیوں کے باوجود اس جزیرے کی تیل ذخیرہ کرنے اور لوڈنگ کی صلاحیت میں اضافہ کیا ہے۔ 2025 میں دو بڑے ذخیرہ ٹینک دوبارہ فعال کیے گئے جن میں مجموعی طور پر تقریباً 2 ملین بیرل تیل ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔ ماضی میں یہاں روزانہ 7 ملین بیرل تک تیل لوڈ کرنے کی صلاحیت موجود رہی ہے جبکہ اس وقت ایران کی مجموعی برآمدات تقریباً 1.6 ملین بیرل یومیہ کے قریب ہیں۔

جزیرہ خرج صرف توانائی کے حوالے سے اہم نہیں بلکہ اس کی تاریخ بھی ہزاروں سال پر محیط ہے۔ ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق یہاں انسانی آبادی کے آثار دوسری ہزارہ قبل مسیح تک ملتے ہیں اور مختلف ادوار میں ایلامی، ہخامنشی اور ساسانی تہذیبوں کے اثرات یہاں موجود رہے ہیں۔

واضح رہے کہ ایران عراق جنگ کے دوران 1980 کی دہائی میں اس جزیرے کو شدید بمباری کا سامنا کرنا پڑا تھا کیونکہ اسے ایران کی تیل برآمدات کا مرکزی مرکز سمجھا جاتا تھا۔ بعد میں ایران نے اس انفراسٹرکچر کو دوبارہ تعمیر کیا اور آج بھی یہ جزیرہ ایران کی معیشت اور توانائی برآمدات میں بنیادی کردار ادا کر رہا ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں