ایران جنگ کے بعد خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں کم از کم 16 آئل ٹینکر اور کارگو جہاز نشانہ بنے

خلیج فارس میں جاری جنگ کے باعث 16 آئل ٹینکرز پر حملے ہوئے ہیں، جس سے عالمی تیل سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
خلیج فارس میں جنگ کے باعث آئل ٹینکرز پر حملے بڑھ گئے

خلیج فارس: (رائیٹ ناوٴ نیوز) امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں کم از کم 16 آئل ٹینکرز، کارگو اور دیگر تجارتی جہاز حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔  مختلف رپورٹس اور بحری ٹریکنگ ڈیٹا کے تجزیے کے مطابق یہ واقعات گزشتہ تقریباً دو ہفتوں کے دوران پیش آئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق نشانہ بننے والے جہازوں میں میوری ناری، سفین پریسٹیج، اسکائی لائٹ، ون میجسٹی، لبرا ٹریڈر، گولڈ اوک، ایم کے او ویوم، پیلاجیا، سیف سی وشنو، زیفروس، سونانگول نامیبے اور اسٹینا امپیریٹو سمیت کئی تجارتی جہاز شامل ہیں۔ ان میں سے بیشتر جہاز آبنائے ہرمز، خلیج عمان اور متحدہ عرب امارات کے ساحلی علاقوں کے قریب موجود تھے۔

اطلاعات کے مطابق ایران نے ان میں سے چند حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ جمعرات کو دو عراقی آئل ٹینکر سمندر میں آگ کی لپیٹ میں آ گئے، جبکہ بدھ کو آبنائے ہرمز کے قریب مزید تین جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان واقعات کے بعد عراق اور عمان نے احتیاطی اقدامات کے طور پر بعض آئل ٹرمینلز عارضی طور پر بند کر دیے۔

یہ حملے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب اسرائیل اور امریکہ ایران اور اس کے اتحادیوں پر مزید حملے کر رہے ہیں۔ 28 فروری سے جاری لڑائی میں سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے ایران میں کئی ایندھن ذخیرہ گاہوں اور توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے خلیج میں تیل پیدا کرنے اور ذخیرہ کرنے والی تنصیبات اور بحری راستوں پر حملے کیے۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی کا اہم راستہ ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ جنگ سے پہلے روزانہ تقریباً 80 آئل اور گیس ٹینکر اس راستے سے گزرتے تھے اور تقریباً 2 کروڑ بیرل تیل عالمی منڈی تک پہنچتا تھا، تاہم موجودہ کشیدگی کے بعد اب روزانہ صرف 1 یا 2 جہاز ہی اس راستے سے گزر پا رہے ہیں۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ جنگ نے عالمی تیل منڈی کی تاریخ میں سپلائی میں بڑی رکاوٹ پیدا کی ہے۔ جنگ کے آغاز کے بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں تقریباً 40 فیصد اضافہ ہو چکا ہے اور ماہرین کے مطابق طویل جنگ عالمی معیشت، توانائی اور خوراک کی سپلائی پر وسیع اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں