ایران امریکا جنگ کے اثرات برطانیہ میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آئے ہیں، جو 2022ء کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔
لندن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے اثرات سے برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اس بحران کے نتیجے میں برطانوی عوام کو 2022ء کے بعد پہلی بار بلند ترین پیٹرول کی قیمتوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق، اگر تیل اور گیس کی قیمتیں موجودہ سطح پر رہیں تو سال کے آخر تک افراط زر 3 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
پروفیسر ڈیوڈ میلز نے خبردار کیا ہے کہ اگر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا تو افراط زر پر براہ راست اثرات مرتب ہوں گے۔ اعداد و شمار کے مطابق، پیٹرول کی قیمت 3.5 پنس اضافے سے 135.67 پنس فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے جبکہ ڈیزل 6.9 پنس سے بڑھ کر 149.01 پنس ہو گیا ہے۔
بیشتر علاقوں میں پیٹرول کی قلت بھی دیکھی گئی ہے اور افراط زر جنوری سے 12 مہینوں میں 3 فیصد پر چل رہا ہے، جو بینک آف انگلینڈ کے 2 فیصد ہدف سے کہیں زیادہ ہے۔ مشرق وسطیٰ کے بحران نے شرح سود میں کمی کی امیدوں پر بھی پانی پھیر دیا ہے۔












