ریو ڈی جنیرو کی تحقیق کے مطابق چیٹ جی پی ٹی کا زیادہ استعمال طلبہ کی یادداشت متاثر کر سکتا ہے۔
ریو ڈی جنیرو: (رائیٹ ناوٴ نیوز)برازیل کی فیڈرل یونیورسٹی آف ریو ڈی جنیرو میں کی گئی تحقیق کے مطابق تعلیمی مقاصد کے لیے چیٹ جی پی ٹی جیسے مصنوعی ذہانت کے ٹولز کا زیادہ استعمال طلبہ کی طویل مدتی یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتا ہے۔ تحقیق کے دوران 120 طلبہ پر تجربات کیے گئے۔
محققین نے طلبہ کو دو گروپس میں تقسیم کیا جن میں سے ایک گروپ نے چیٹ جی پی ٹی استعمال کیا جبکہ دوسرے گروپ نے روایتی طریقوں سے مطالعہ کیا۔ 45 دن بعد جب اچانک ٹیسٹ لیا گیا تو چیٹ جی پی ٹی استعمال کرنے والے طلبہ نے اوسطاً 57.5 فیصد نمبر حاصل کیے جبکہ روایتی طریقے سے پڑھنے والے طلبہ نے 68.5 فیصد نمبر حاصل کیے۔
ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت پر ضرورت سے زیادہ انحصار ذہنی کوشش کو کم کر دیتا ہے جس سے معلومات دماغ میں دیرپا طور پر محفوظ نہیں ہوتیں۔ محققین نے اس رجحان کو "ذہنی بیساکھی” قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق چیٹ جی پی ٹی استعمال کرنے والے طلبہ نے مطالعے پر روایتی گروپ کے مقابلے میں تقریباً 45 فیصد کم وقت صرف کیا۔ ماہرین نے تعلیمی اداروں کو مشورہ دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ٹولز کے استعمال کے لیے واضح قواعد وضع کیے جائیں۔















