انکٹاڈ کی رپورٹ میں آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں سے عالمی تجارت اور سپلائی چین پر ممکنہ اثرات کی نشاندہی کی گئی ہے، جو تیل اور زرعی مصنوعات کی قیمتوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔
نیویارک: (رائیٹ ناوٴ نیوز) اقوام متحدہ کے ادارے انکٹاڈ نے امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے دوران آبنائے ہرمز میں ممکنہ رکاوٹوں کے عالمی اثرات پر تجزیاتی رپورٹ جاری کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تیل بردار جہازوں کے کرایوں اور جنگی خطرات کی انشورنس پریمیم میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے بحری ایندھن کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔ اس سے عالمی سپلائی چین میں شپنگ کے اخراجات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق عالمی سمندری تجارت میں کھاد کی تقریباً ایک تہائی مقدار آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے، جو رکاوٹ کی صورت میں غریب ممالک میں کھاد کی دستیابی پر اثر ڈال سکتی ہے اور زرعی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔ انکٹاڈ نے نشاندہی کی ہے کہ ترقی پذیر معیشتیں اس بحران سے زیادہ متاثر ہو سکتی ہیں کیونکہ ان کے لیے نئی قیمتوں کے جھٹکوں کو برداشت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے کہا کہ اقتصادی اثرات کا حجم رکاوٹ کی مدت اور شدت پر منحصر ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت سمندری تجارتی راستوں کی حفاظت کے لیے نگرانی اور اقدامات ضروری ہیں۔











