ایران جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے عالمی خوراک کی قیمتوں پر دباؤ کا خدشہ ہے۔ خلیجی ممالک کی درآمدی خوراک متاثر ہو سکتی ہے۔
دبئی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک اپنی خوراک کا بڑا حصہ درآمد کرتے ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور بحرین اپنی ضروری غذائی اشیا کا 70 سے 90 فیصد تک بیرون ملک سے منگواتے ہیں۔ ایسے میں اگر مشرق وسطیٰ میں جنگ کے باعث تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو خوراک کی ترسیل، پیداوار اور ذخیرہ اندوزی کے اخراجات میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کا براہِ راست اثر عالمی خوراک کی قیمتوں پر پڑنے کا خدشہ ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے بعد عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ جنگ کے آغاز کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر ہونے سے تیل کی عالمی سپلائی میں خلل پیدا ہوا ہے۔ اس تنگ سمندری گزرگاہ سے روزانہ تقریباً 2 کروڑ بیرل تیل گزرتا ہے جو عالمی کھپت کا تقریباً پانچواں حصہ ہے۔
تیل اور گیس صرف ایندھن نہیں بلکہ خوراک کی پیداوار کے پورے نظام کا اہم حصہ ہیں۔ کھادیں، زرعی مشینری، ٹرانسپورٹ اور پیکجنگ سب توانائی پر انحصار کرتے ہیں۔ جب تیل مہنگا ہوتا ہے تو کھاد کی تیاری، زرعی مشینری کے ایندھن اور کھیتوں میں آبپاشی کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔
قدرتی گیس سے امونیا اور یوریا جیسی کھادیں تیار کی جاتی ہیں جو عالمی خوراک کی پیداوار کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ توانائی کی قیمتیں بڑھنے سے کھاد کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے جس سے کسانوں کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ نتیجتاً زرعی پیداوار مہنگی ہو جاتی ہے اور اس کا اثر بالآخر صارفین تک پہنچتا ہے۔
خوراک کی عالمی سپلائی چین میں ٹرانسپورٹ اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ٹرک، بحری جہاز اور طیارے خوراک کو ایک ملک سے دوسرے ملک تک پہنچاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر ایندھن مہنگا ہو جائے تو ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں اور یہ اضافی لاگت بالآخر خوراک کی قیمت میں شامل ہو جاتی ہے۔
خوراک کی پیکجنگ میں استعمال ہونے والا پلاسٹک بھی پیٹرولیم مصنوعات سے تیار ہوتا ہے۔ اسی طرح کولڈ اسٹوریج اور ریفریجریشن کے لیے بجلی یا ڈیزل درکار ہوتا ہے۔ اگر توانائی مہنگی ہو جائے تو خوراک کو محفوظ رکھنے اور سپر مارکیٹ تک پہنچانے کے اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں بڑے اضافے کے بعد اکثر عالمی معیشت سست روی کا شکار ہو جاتی ہے۔ تاریخ میں 1973، 1978 اور 2008 کے توانائی بحرانوں کے بعد عالمی کساد بازاری دیکھنے میں آئی۔ کم آمدنی والے ممالک میں صورتحال زیادہ حساس ہو سکتی ہے کیونکہ وہاں لوگ اپنی آمدنی کا بڑا حصہ خوراک پر خرچ کرتے ہیں اور زیادہ تر اناج اور کھاد درآمد کی جاتی ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی برقرار رہی تو عالمی توانائی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال طویل ہو سکتی ہے جس سے خوراک کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔











